سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 449

سيرة النبي علي 449 جلد 4 سمجھ سکتے ہو کہ میرا کامل علم مجھے امن نہیں بخش سکتا۔فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ تم بتاؤ کہ ان دونوں میں سے کس کو امن حاصل ہوگا اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ اگر تم حماقت کی باتیں نہ کرو اور عقل و خرد سے کام لو تو تم سمجھ سکتے ہو کہ کون مامون ہے اور کون غیر مامون۔اس جگہ امن کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ نے دو عظیم الشان گر بیان کئے ہیں۔اول یہ کہ توحید کامل کے قیام کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا کیونکہ جب تک تو حید قائم نہ ہوگی اُس وقت تک لڑائیاں جاری رہیں گی۔شرک کا صرف اتنا ہی مفہوم نہیں ہوگا کہ کوئی ایک کی بجائے تین خداؤں کا قائل ہو بلکہ جب باریک در باریک رنگ میں شرک شروع ہوتا ہے تو کئی کئی قسم کا شرک نظر آنے لگ جاتا ہے اس کے علاوہ جب مختلف مذاہب کی تعلیمیں مختلف ہیں ، ان کے خیالات مختلف ہیں تو اس حالت میں امن اُس وقت تک قائم ہی نہیں ہو سکتا جب تک لوگوں کے اندر حقیقی مؤاخات پیدا نہ ہو اور حقیقی مواخات ایک خدا کے بغیر نہیں ہو سکتی۔دنیا میں اس بات پر تو لڑائیاں ہو جاتی ہیں کہ ایک کہتا ہے میرا دادا فلاں عظمت کا مالک تھا اور دوسرا کہتا ہے کہ میرا دادا ایسا تھا مگر کبھی تم نے بھائیوں کو اس بات پر لڑتے نہیں دیکھا ہوگا کہ ایک دوسرے کو کہے میں شریف النسب ہوں اور تم نہیں۔اسی طرح جب دنیا میں توحید کامل ہوگی تبھی اس قسم کی لڑائیاں بند ہوں گی۔پس اخوت و مساوات کا جوسبق تو حید سے حاصل ہوتا ہے اور کسی طرح حاصل نہیں ہو سکتا۔چنانچہ رسول کریم ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم کے متعلق دشمن بھی یہ اقرار کرتا ہے کہ اخوت کا جو سبق آپ نے دیا وہ کسی اور نے نہیں دیا۔حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوت کا سبق الگ کر کے نہیں دیا بلکہ آپ نے اصل میں توحید کا سبق دیا جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں اخوت پیدا ہوگئی۔مثلاً جب میں نماز میں کہوں اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 11 سب تعریف اُس اللہ کی ہے جو عیسائیوں کا بھی رب ہے، ہندوؤں کا بھی رب ہے اور یہودیوں کا بھی