سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 448
سيرة النبي علي 448 9 جلد 4 محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو امن دے رہے ہیں یہ عارضی ہے یا مستقل ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے وَاللهُ يَدْعُوا اِلى دَارِ السَّلْمِ و کہ دنیا فسادوں کی طرف لے جاتی ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو تعلیم دی گئی ہے وہ موجودہ زمانہ کے لئے ہی نہیں بلکہ وہ ایک ایسا امن ہے جو مرنے کے بعد بھی چلتا چلا جاتا ہے اور جو اس دنیا کے بعد ایک ایسے گھر میں انسان کو پناہ دیتا ہے جہاں سلامتی ہی سلامتی ہے گویا یہ زنجیر ایک مکمل زنجیر ہے۔اس کے ماضی میں ایک سلام ہستی کھڑی ہے ، اس کے حال میں امن ہے کیونکہ ایک مدرسہ امن جاری ہو گیا ہے۔ایک مدرس امن خدا تعالیٰ نے بھیج کر امن کا کورس بھی مقرر کر دیا اور عملی طور پر ایک ایسی جماعت تیار کر دی جو إِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَهِلُونَ قَالُوا سَلما کی مصداق ہے۔پس اس کے ماضی میں بھی امن ہے اور اس کے حاضر میں بھی امن ہے پھر اس کے مستقبل میں بھی امن ہے کیونکہ وَاللهُ يَدْعُوا إِلَى دَارِ السَّلْمِ مرنے کے بعد وہ انسان کو ایک ایسے جہان میں لے جائے گا جہاں سلامتی ہی سلامتی ہوگی پس یہ ساری زنجیر مکمل ہو گئی اور کوئی پہلو b تشنہ تکمیل نہیں رہا۔اس کے بعد امن حقیقی کے قیام کے ذرائع کا سوال آتا ہے۔سو اس کے متعلق بھی قرآن کریم روشنی ڈالتا اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان سے فرماتا ہے وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللَّهِ مَالَمْ يُنَزِّلُ بِهِ عَلَيْكُمُ سُلْطَنَّا فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ 10 کہ میرے دل کا امن کس طرح بر باد ہو جائے ان بتوں کو دیکھ کر جن کو تم خدائے واحد کا شریک قرار دے رہے ہو وَلَا تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُمْ بِاللهِ مَالَمْ يُنَزِّلُ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَنَّا حالانکہ تم اپنے دلوں میں جھوٹے طور پر مطمئن ہو اور خطرہ تمہارے اردگرد ہے۔پس اگر تم عدم علم اور جہالت کے باوجود مطمئن ہو اور تمہارا عدم علم تم کو امن دے سکتا ہے تو تم کس طرح