سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 447
سيرة النبي علي 447 جلد 4 برباد بالکل بر باد کر دیا ہے۔مگر فرمایا فَاصْفَحْ عَنْهُم ہم نے اپنے نبی سے یہ کہا ہے کہ ابھی ان لوگوں کو تیری تعلیم کی عظمت معلوم نہیں اس لئے وہ غصہ میں آ جاتے اور تیری مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں تو ان سے درگزر کر کیونکہ ہم نے تجھے امن کے قیام کے لئے ہی بھیجا ہے وَ قُل سلم اور جب تجھ پر یہ حملہ کریں اور تجھے ماریں تو تو یہی کہتا رہ کہ میں تو تمہارے لئے سلامتی لایا ہوں فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ عنقریب دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) دنیا کے لئے امن لایا تھا لڑائی نہیں لایا تھا۔گویا وہ امن جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لائے وہ صرف مومنوں کے لئے ہی امن نہ رہا بلکہ سب کے لئے امن ہو گیا۔پھر صرف محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی نہیں بلکہ عام مومنوں کو مخاطب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجُهِلُونَ قَالُوْا سَلْمَّا ه وہ جاہل جو اسلام کی غرض و غایت کو نہیں سمجھتے جب مسلمانوں سے لڑنا شروع کر دیتے ہیں تو مومن کہتے ہیں کہ ہم تو تمہاری سلامتی چاہتے ہیں چاہے تم ہمارا برا ہی کیوں نہ چا ہو۔جب دشمن کہتا ہے کہ تم کیسے گندے عقائد دنیا میں رائج کر رہے ہو تو وہ کہتے ہیں یہ گندے عقائد اور بیہودہ باتیں نہیں بلکہ سلامتی کی باتیں ہیں۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائی ہوئی سلامتی صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہی نہیں بلکہ مومنوں کے لئے بھی ہے اور صرف مومنوں کے لئے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے لئے ہے۔پھر سوال پیدا ہوتا تھا کہ یہ سلامتی عارضی ہے یا مستقل؟ کیونکہ یہ تو ہم نے مانا کہ ایک السّلم خدا سے امن لا کر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دنیا کو دیا مگر بعض امن عارضی بھی ہوتے ہیں جن کے نیچے بڑی بڑی خرابیاں پوشیدہ ہوتی ہیں جیسے بخار کا مریض جب ٹھنڈا پانی پیتا ہے تو اُسے بڑا آرام محسوس ہوتا ہے مگر دومنٹ کے بعد یکدم اُس کا بخار تیز ہو جاتا ہے اور کہتا ہے آگ لگ گئی ہے۔پھر برف پیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ آرام آ گیا مگر یکدم پھر اُسے بے چینی شروع ہو جاتی ہے۔پس سوال ہوسکتا ہے کہ۔