سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 425 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 425

سيرة النبي علي 425 جلد 4 فتح مکہ کے موقع پر رسول کریم ﷺ کا فیصلہ رسول حضرت مصلح موعود 15 جولائی 1938ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔و فتح مکہ کے وقت ایک انصاری نے جو ایک دستہ فوج کے افسر تھے اور جن کا نام غالبًا عبادہ بن صامت تھا ابوسفیان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب دیکھو مکہ میں چل کر ہم تمہاری کیسی خبر لیتے ہیں اور جو جو تکلیفیں تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو پہنچائی ہیں ان کا کس طرح انتقام لیتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کا علم ہوا تو آپ نے اسے فوج کی کمانڈ سے علیحدہ کر کے معمولی سیاہی بنا دیا اور اس کے بیٹے کو اس کی جگہ افسر مقرر کر دیا 1۔لیکن کیا تم سمجھتے ہو یہ الفاظ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں حضرت عبادہ کے متعلق نفرت کا جذبہ پیدا ہوا ہوگا ؟ آخر عبادہ کو ابوسفیان سے کیا عداوت تھی؟ وہ کفر کے زمانہ میں شاید ابوسفیان کا نام بھی نہ جانتے ہوں گے مگر جب اسلام لانے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ مکہ والوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو کیا کیا اذیتیں پہنچائی ہیں تو ان کا دل جوش سے بھر گیا اور فتح مکہ کے قت غلطی سے ان کے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے کہ اب دیکھو گے ہم تم سے کس طرح انتقام لیتے ہیں۔پس گو انہوں نے یہ الفاظ کہے اور غلط طور پر کہے مگر کون شخص کہہ سکتا ہے کہ انہوں نے یہ الفاظ اپنی ذات کے لئے کہے۔انہوں نے یہ الفاظ محض اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جوش میں کہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انہیں سزا دی اور اتنی سخت سزا دی کہ انہیں افسری سے ہٹا کر سپاہی بنا دیا۔آج اگر کسی