سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 417

سيرة النبي علي 417 جلد 4 وو رسول کریم ﷺ کی سخاوت اور توکل کا مقام حضرت مصلح موعود 18 فروری 1938 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔اسلامی زمانہ میں نقد روپیہ جمع کی صورت میں بہت کم نظر آتا تھا گو کچھ جائیداد میں ضرور محفوظ کی گئی تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو روپیہ رکھتے ہی نہیں تھے بلکہ جو کچھ آتا اسے تقسیم کر دیتے تھے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں روپیہ اس لئے جمع نہیں رکھتے تھے کہ آپ پر الزام نہ آئے مگر یہ غلط خیال ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق عمل سے یہ بات ثابت ہے کہ آپ نہ صرف اپنے گھر میں روپیہ جمع نہیں رکھتے تھے بلکہ آپ نے کوئی خزانہ بھی نہ بنایا ہوا تھا۔جس قدر روپیہ آتا وہ آپ تقسیم فرما دیتے اور سمجھتے تھے کہ جب اور ضرورت ہوگی تو اللہ تعالیٰ اور بھیج دے گا۔یہ آپ کے تو کل کا اعلیٰ مقام تھا۔ہر شخص یہ طریق اختیار نہیں کر سکتا مگر بہر حال منہاج نبوت یہی ہے کہ روپیہ جمع نہ ہو بلکہ خرچ ہوتا رہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا کر لوگوں کے کندھوں سے پھاندتے ہوئے جلدی جلدی گھر تشریف لے گئے۔صحابہ کچھ حیران سے ہوئے کہ اتنی جلدی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کیوں تشریف لے گئے ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد آپ پھر کسی کام کے لئے واپس آئے تو آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کچھ مال بھیجا تھا جو میں نے تقسیم کر دیا۔صرف دو دینار باقی تھے۔میں نماز پڑھا کر جلدی جلدی گھر گیا اور مجھے خیال آیا کہ وہ اب تک کیوں پڑے ہیں چنانچہ میں اب انہیں تقسیم کر کے آیا ہوں 1۔پس یہی نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں روپیہ جمع نہیں