سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 416
سيرة النبي علي 416 جلد 4 وو رسول کریم میہ کی قربانیاں رسول حضرت مصلح موعود 21 جنوری 1938 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کس نے قربانیاں کی ہیں اور کون قربانیاں کر سکتا ہے لیکن آپ کو ہم دیکھتے ہیں کہ انہی قربانیوں میں آپ اس جہان سے گزر گئے اور اس دنیا کی ترقیات کا زمانہ آپ کی زندگی میں نہیں آیا۔قیصر اور کسری کے خزانے جو اُن قربانیوں کے نتیجہ میں حاصل ہوئے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھیں وہ جا کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں فتح ہوئے اور ان کا فائدہ زیادہ تر اُن لوگوں نے حاصل کیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر میں ابو جہل اور ابوسفیان کے لشکر میں شامل ہو کر مسلمانوں کا مقابلہ کرتے رہے تھے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں ایمان لائے اور فتوحات کے زمانہ میں تھوڑے سے عرصہ کے لئے لڑائیوں میں بھی شامل ہوئے اور پھر فتوحات میں حصہ دار بن کر ہر قسم کی راحت و آرام حاصل کرنے والے ہو گئے۔اور وہ جنہوں نے قربانیاں کی تھیں اور جو آسمان سے اس بہشت کو کھینچ کر لائے تھے وہ اپنے خدا کے پاس مدتوں پہلے جاچکے تھے یا ان چیزوں سے مستغنی ہو کر اپنے رب کی یاد میں بیٹھے تھے یا خدمت خلق میں مشغول تھے۔“ (الفضل 25 جنوری 1938ء )