سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 389
سيرة النبي علي 389 جلد 4 کس طرح نماز پڑھتے ہیں۔یہ عشق کی نقل تھی دماغی اور عقلی نقل نہیں تھی۔اس عشق میں بعض دفعہ والا معاملہ بھی ہو جاتا ہے۔عشق است و ہزار بدگمانی ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسول کریم عملہ ایک دفعہ نماز پڑھا رہے تھے کہ جب آپ سجدہ میں گئے تو آپ نے بہت دیر کردی اور سجدہ بہت لمبا ہو گیا۔یہ دیکھ کر میرے دل میں وہم اٹھنا شروع ہو گیا کہ خدانخواستہ کوئی حادثہ نہ ہو گیا ہو۔چنانچہ میں الله نے سراٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت حسن رسول کریم ﷺ کی گردن پر اس طرح بیٹھے ہیں جس طرح کوئی گھوڑے پر سوار ہوتا ہے۔یہ دیکھ کر میں پھر جلدی سے سجدہ میں چلا گیا۔جب نماز ہو چکی تو باقی صحابہ نے عرض کیا کہ يَا رَسُولَ اللهِ! کیا سجدہ میں حضور پر کوئی وحی نازل ہوئی ہے کہ اس قدر دیر حضور نے کردی؟ یا خدانخواستہ کوئی تکلیف ہو گئی تھی؟ ہمیں تو سخت گھبراہٹ ہونے لگ گئی تھی۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہ کوئی وحی نازل ہوئی ہے اور نہ خدا کے فضل سے کوئی تکلیف ہوئی ہے۔یہ ہمارا بیٹا ہماری گردن پر سواری کرنے بیٹھ گیا تھا اور ہم نے کہا کہ چلو تھوڑی دیر کے لئے یہ بھی سواری کرلے، اگر اسے ہٹایا تو اسے تکلیف ہوگی 3۔“ ( الفضل 18 دسمبر 1937ء ) :1 بخاریى كتاب العيدين باب الحراب والدرق يوم العيد صفحہ 153 حدیث نمبر 950 مطبوعہ ریاض مارچ 1999ء الطبعة الثانية 2 كنز العمال جلد 13 صفحہ 669 حدیث نمبر 37706 مطبوعہ بیروت لبنان 2012 ء(مفہوماً) 3 كنز العمال جلد 13 صفحہ 667 ، 668 حدیث نمبر 37702 مطبوعہ بیروت لبنان 2012 ء (مفہوماً)