سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 388

سيرة النبي علي 388 جلد 4 رسول کریم ﷺ کا اہل خانہ سے پیار صلى الله حضرت مصلح موعود 26 نومبر 1937ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔محمد ہے جن کے قدموں کے نیچے ہزاروں انسان اپنی آنکھیں بچھانے کے لئے تیار تھے اور جن کی خدمت کے لئے ہزاروں لوگ موجود تھے انہیں جب ہم اہلی زندگی میں دیکھتے ہیں تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ رسول کریم ﷺ ایک موقع پر جھکتے ہیں اور فرماتے ہیں عائشہ! میری پیٹھ پر پیر رکھ کر فلاں نظارہ دیکھ لو 1۔پھر آپ نماز پڑھ رہے ہوتے تو حضرت حسن جو ابھی چھوٹے بچے تھے آتے اور جب آپ سجدہ میں جاتے تو گردن پر چڑھ کر بیٹھ جاتے۔جب آپ سجدہ کے بعد کھڑے ہونے لگتے تو انہیں اپنی گودی میں لے لیتے۔پھر رکوع میں جاتے تو اتار دیتے اور جب پھر سجدہ میں جاتے تو وہ پھر آپ کی پیٹھ پر بیٹھ جاتے۔صحابہ ایک دفعہ یہ دیکھ کر حضرت حسن پر ناراض ہوئے تو آپ نے فرمایا رہنے دو بچوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ان کے شفیق بنو 2۔غرض گو دنیا جہان کے لئے محمد ﷺ قربانی کر رہے تھے اور دنیا جہان بھی آپ کے لئے ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار تھی مگر حضرت حسنؓ کے ساتھ سلوک ایک جدا گانہ رنگ رکھتا تھا۔جو سلوک آپ سے حسنؓ کرتے تھے کسی اور کا بچہ کرتا تو شاید وہ باپ اپنے بچہ کو مار مار کر ادھ موا کر دیتا۔“ ( الفضل 4 دسمبر 1937 ء) 10 دسمبر 1937 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔جو عشق میں مخمور ہو کر عشقی نقل کرتا ہے وہی حقیقی کامیابی حاصل کرتا ہے۔بعض صحابہ کہتے ہیں کہ ہم نماز میں بھی بعض دفعہ رسول کریم ﷺ کی طرف دیکھتے تھے کہ آپ