سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 390

سيرة النبي علي 390 جلد 4 جملہ اخلاق کے جامع حضرت مصلح موعود 17 دسمبر 1937ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں :۔اللہ تعالیٰ نے صحابہ کے لئے لَكَرِهُونَ 1 بمقام مدح میں بیان کیا ہے۔وہ جانتا تھا کہ کسی زمانہ میں ان پر یہ الزام لگایا جائے گا۔جیسے آجکل یورپین مؤرخ کرتے ہیں کہ وہ لوگ لوٹ مارکو پسند کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ صحیح نہیں بلکہ وہ تو لڑائی کو دل سے ناپسند کرتے تھے اور صرف اس صورت میں لڑتے تھے کہ جب دیکھتے کہ اب کافروں نے ان کے لئے اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہیں چھوڑا۔تو یہ ان کی نیکی بیان کی گئی ہے کہ وہ مجبور ہو کر لڑتے تھے ورنہ وہ کسی کو دکھ دینا پسند نہیں کرتے تھے۔چنانچہ اس کی عملی مثال رسول کریم ﷺ کی زندگی میں ہمیں ملتی ہے۔باوجود اس کے کہ آپ نے درجن بھر سے زیادہ لڑائیوں میں حصہ لیا اور باوجود اس کے کہ آپ شدید معرکوں میں جو بلحاظ قتل و خونریزی کے شدید تھے، اگر چہ ان میں حصہ لینے والوں کی تعداد زیادہ نہ ہو، کمان کرتے رہے۔مگر سوائے ایک کے کوئی شخص آپ کے ہاتھ سے مارا نہیں گیا اور وہ بھی اس لئے کہ اس نے خود آپ کے ہی ہاتھ سے مارے جانے پر زور دیا۔آپ خود سے بھی مارنا پسند نہ کرتے تھے۔صحابہ اس کے مقابلہ پر آتے مگر وہ سب سے کہتا کہ تم ہٹ جاؤ میرا مقابلہ محمد سے ہے اور میں تم میں سے کسی سے نہیں لڑوں گا۔یہ دیکھ کر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے آنے دو۔ورنہ آپ پر نَعُوذُ بِاللهِ بزدلی کا الزام لگتا اور غیرت کے خلاف فعل سمجھا جاتا۔اور جب وہ آگے آیا تو آپ نے اُسے قتل کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ صرف اُس کے حملہ کو روکنے کے لئے نیزہ کی آنی چھوٹی