سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 344
سيرة النبي علي 344 جلد 4 سے اعلیٰ بنایا ہے تا کہ تم باقی سب لوگوں پر شہید کے طور پر ہو۔شہید کے معنے داروغہ کے ہوتے ہیں۔اب خود ہی سوچ لو کہ کیا داروغہ بڑا ہوتا ہے یا مزدور بڑا ہوتا ہے؟ ہر شخص جانتا ہے کہ مزدور نہیں بلکہ داروغہ بڑا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا کی ساری قوموں کے مقابلہ میں تم داروغہ کے طور پر ہو اور وہ تمہارے مقابلہ میں ایسی ہی ہیں جیسے مزدور ہوتا ہے۔جب مسلمانوں کو باقی اقوام پر یہ فضیلت حاصل ہے اور جبکہ قیامت کے دن جہاں اگلی پچھلی تمام تو میں اکٹھی ہوں گی مسلمان شہید کے طور پر ہوں گے اور باقی قو میں مزدوروں کی طرح تو پہلی قوموں کی بڑائی کا جن آیات میں ذکر آتا ہے ان کے معنے یہی ہوں گے کہ ان قوموں کو صرف اپنے زمانہ میں تمام دنیا پر فضیلت حاصل تھی۔پھر ایک مقام پر اللہ تعالیٰ بہت سے انبیاء کا اکٹھا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَلَمِيْنَ وَمِنْ أَبَا بِهِمْ وَذُرِّيَّتِهِمْ وَاِخْوَانِهِمْ وَاجْتَبَيْنَهُمْ وَهَدَيْنَهُمْ إِلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْهِ و کہ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔اسی طرح ان کے باپ دادوں کو فضیلت دی ، ان کی ذریت کو فضیلت دی اور ان کے بھائیوں کو فضیلت دی۔اب کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک سارے جہاں پر فضیلت رکھتا تھا؟ اگر باپ فضیلت رکھتے تھے تو بھائیوں کوکس طرح فضیلت حاصل ہوگئی ؟ اور اگر بھائی افضل تھے تو ذریت افضل کس طرح بن گئی ؟ یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ تین دو سے بڑا ہے لیکن یہ کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ دو تین۔بڑا ہے۔اگر تین دو سے بڑا ہے تو دو تین سے بڑا نہیں ہوسکتا۔اور اگر دو تین سے بڑا ہے تو تین دو سے بڑا نہیں ہوسکتا۔دراصل وہاں بھی اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ ہر نبی کی جماعت کو اپنے اپنے زمانہ میں دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل تھی۔حضرت ابرا ہیم کی قوم کو اپنے زمانہ میں دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل تھی اور اسحق کی قوم کو اپنے زمانہ میں دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل تھی اور یعقوب کی قوم کو اپنے زمانہ میں