سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 345

سيرة النبي علي 345 جلد 4 دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل تھی۔اسی طرح دائڈ اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسی اور ہارون اور زکریا اور تیکتی اور عیسی اور الیاس اور اسماعیل اور الیسع وغیرہ کی قوموں کو اپنے اپنے زمانہ میں دوسرے لوگوں پر فضیلت حاصل تھی۔اور پھر ان کی وجہ سے ان کے اُن باپ دادوں اور اولادوں کو بھی فضیلت حاصل ہوگئی جو انبیاء کو ماننے والی تھیں۔تو قرآن کریم کی متعدد آیات سے یہ ثابت ہے کہ جب کسی کے متعلق یہ کہا جائے کہ وہ تمام جہان سے افضل ہے تو اس کے معنے صرف یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت رکھتا ہے۔اب یہ کتنی ظالمانہ یا کتنی جاہلانہ بات ہے جو ہماری طرف منسوب کی گئی ہے۔اگر احسان نے دیدہ دانستہ یہ عقیدہ ہماری طرف منسوب کیا ہے تو اس نے ایک ظالمانہ فعل کیا اور اگر ہمارے عقائد سے واقفیت حاصل کئے بغیر اس نے ایسا نوٹ لکھا تو اس ہے نے ایک جاہلانہ فعل کا ارتکاب کیا۔حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَبِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا 10 کہ جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اس میں دخل نہ دیا کرو۔جو شخص قرآن کریم کو جانتا ہی نہیں اور جس نے رسول کریم ﷺ کے کلام پر کبھی غور ہی نہیں کیا وہ اگر بغیر سوچے سمجھے اعتراض کر دیتا ہے تو اس کا اعتراض معاف بھی کیا جا سکتا ہے۔مگر جو قرآن کریم پر ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کی باتوں کو پس پشت ڈال دیتا ہے وہ معذور نہیں قرار دیا جا سکتا۔پھر میں کہتا ہوں کہ اگر ان لوگوں نے قرآن پر کبھی غور نہیں کیا تھا یا اگر ان لوگوں نے رسول کریم ﷺ کے کلام پر کبھی غور نہیں کیا تھا تو کم از کم انہیں انسانوں کے کلام پر ہی غور کرنا چاہئے تھا اور دیکھنا چاہئے تھا کہ کیا روز مرہ کی گفتگو میں اس قسم کے الفاظ استعمال نہیں کئے جاسکتے۔تم چلے جاؤ لاہور میں اور لوگوں سے دریافت کرو کہ سب سے بڑا پہلوان کون سا ہے؟ وہ کہیں گے سب سے بڑا پہلوان گاما ہے۔اب کیا