سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 343

سيرة النبي عمال 343 جلد 4 میں جس قدر لوگ ہیں ان سب سے جماعت احمدیہ کا خلیفہ بڑا ہے اور اگر یہی معنے کئے جائیں تو اس سے ہمیں انکار نہیں بلکہ یقیناً ہم اس کے دعویدار ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ آنِّى فَضَّلْتُكُمُ عَلَى الْعُلَمینَ 5 کہ میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی ہے۔اب بتاؤ کیا اس کے یہ معنے ہیں کہ بنی اسرائیل رسول کریم ﷺ کی امت سے بھی بڑے ہیں۔اللہ تعالیٰ تو امت محمدیہ کے متعلق قرآن کریم میں یہ فرماتا ہے کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ : کہ تم دنیا کی ساری قوموں میں سے زیادہ بلند درجہ رکھنے والی قوم ہو اور تم خالص دنیا کے فائدہ اور نفع رسانی کیلئے پیدا کی گئی ہو۔اب ایک طرف اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو یہ فرماتا ہے کہ تم دنیا کی تمام قوموں سے اعلیٰ ہو اور دوسری طرف بنی اسرائیل کے متعلق فرماتا ہے کہ میں نے انہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی۔حالانکہ تمام جہان پر فضیلت ایک کو ہی حاصل ہو سکتی ہے دونوں کو حاصل نہیں ہوسکتی۔پھر ان آیتوں کے تطابق کی کیا صورت ہے اور اَنِّی فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَلَمِيْنَ کے کیا معنے ہوں گے۔کیا یہ ہوں گے کہ بنی اسرائیل کو مسلمانوں پر فضیلت حاصل ہے یا یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنے زمانہ کے لوگوں پر فضیلت حاصل تھی۔مگر مسلمانوں کو ساری جماعتوں اور سارے زمانوں پر فضیلت حاصل ہے۔اس کا مزید ثبوت رسول کریم علی کا اپنا دعویٰ ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں اِنِّی مُفَاخِرٌ بِكُمْ وَمُكَاثِرٌ بِكُم 7 که قیامت کے دن میں اپنی امت کو ساتھ لے کر باقی تمام انبیاء کی امتوں پر فخر کروں گا اور اس کی کثرت پر ان کے مقابلہ میں ناز کروں گا۔اب قیامت کے دن جہاں ساری امتیں اکٹھی ہوں گی جس قوم کو فخر حاصل ہوگا یقینا وہی قوم دنیا کی ساری قوموں سے بڑی ہوگی تو خَيْرَ أُمَّةٍ کی تشریح رسول کریم ﷺ نے خود کر دی اور اللہ تعالیٰ نے بھی ایک دوسرے مقام پر اس کی تشریح کر دی جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ 8 اور اسی طرح ہم نے تم کو سب قوموں صلى الله