سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 335

سيرة النبي علي 335 میں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں بعد از خدا بعشق محمد محترم گر کفر این بود بخدا سخت کافرم 1 : جلد 4 یعنی اے مسلمانو ! میری زندگی کا ماحصل کیا ہے یہی کہ میں خدا تعالیٰ کے بعد رسول کریم اللہ کی عزت دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہوں مگر تم باوجود ان باتوں کو دیکھنے کے مجھے کافر کہتے ہو جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں میرے اندر کفر کی وجہ یہی نظر آئی صلى الله ہے کہ میں خدا تعالیٰ کے بعد رسول کریم ﷺ کا درجہ لوگوں میں قائم کرنا چاہتا ہوں۔لیکن اگر میرا یہ فعل جرم ہے تو پھر میں یقیناً مجرم ہوں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مجرم ہوں جتنا تم مجھے سمجھتے ہو۔اور اگر کفر اسی کا نام ہے کہ خدا تعالیٰ کے بعد رسول کریم ﷺ کی محبت دل میں پائی جاتی ہو اور آپ کا عشق رگ وریشہ میں سرایت کر چکا ہو تو پھر خدا کی قسم ! میں اس سے بہت زیادہ کا فر ہوں جتنا تم مجھے سمجھتے ہو۔یہی عقیدہ ہمارا ہے بلکہ ہم میں سے ہر احمدی کا یہی عقیدہ ہے اور جو شخص اس عقیدہ سے ذرہ بھر بھی ادھر اُدھر ہو جائے وہ احمدی نہیں رہ سکتا۔کیونکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب اور اُس کا وصال محمد مہ کی کامل اطاعت میں ہے۔اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ 2 پر ہمارا کامل یقین وایمان ہے۔یہ قرآن کی آیت ہے اور جو شخص قرآن کو مانتا ہو وہ اس آیت کے ما تحت لازمی طور پر یہ عقیدہ رکھے گا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا اب ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ انسان رسول کریم ﷺ کی متابعت میں فنا ہو جائے۔لطیفہ یہ ہے کہ یہ لوگ خود رسول کریم ﷺ کی عملاً ہتک کرتے ہیں مگر الزام ہم پر لگاتے ہیں کہ گویا ہم ( نَعُوذُ بِاللهِ ) رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں۔گو عقیدہ صلى الله صلى الله ہم ان کے متعلق بھی یہ نہیں سمجھتے کہ وہ رسول کریم ﷺ کی ہتک کرتے ہیں کیونکہ کوئی شخص مسلمان کہلاتے ہوئے دانستہ رسول کریم ﷺ کی ہتک نہیں کر سکتا۔مگر بعض دفعہ صلى الله