سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 336

سيرة النبي عليه 336 جلد 4 صلى الله صلى الله صلى الله انسان غلطی سے نا دانستہ طور پر ہتک کا مرتکب ہو جاتا ہے۔یہی حال ان کا ہے۔وہ بھی گو عقیدۂ رسول کریم ﷺ کی بہتک نہیں کرتے مگر عملاً آپ کی ہتک کرتے ہیں۔چنانچہ ان کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام اب تک آسمان پر زندہ موجود ہیں اور رسول کریم ﷺ فوت ہو کر زمین میں دفن ہو چکے ہیں۔اب یہ صاف بات ہے کہ جو نبی آسمان پر اپنے جسدِ عنصری کے ساتھ زندہ موجود ہو اور دنیا کے فسادات کو مٹانے اور دین کی کمزوری کو دور کرنے کے لئے اُسی نے آخری زمانہ میں اتر نا ہو اور پھر نبی بھی وہ مستقل ہو یعنی رسول کریم ﷺ کی اطاعت اور پیروی سے اس نے مقام نبوت حاصل نہ کیا ہو اور نہ اُس کا کام رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب ہوسکتا ہو وہ بہر حال اُس نبی سے بڑا ہو گا جو زمین میں دفن ہے۔تو یہ لوگ عملاً رسول کریم ﷺ کی تنک کرتے اور حضرت عیسی علیہ السلام کو آپ سے افضل قرار دیتے ہیں مگر ہم لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت یہ یقین اور ایمان رکھتے ہیں کہ وہ رسول کریم علیہ کے غلام ہیں اور آپ نے جو درجہ بھی حاصل کیا وہ رسول کریم ﷺ کی اطاعت اور غلامی سے حاصل کیا پس آپ رسول کریم ﷺ کے شاگرد ہیں۔اور یہ بات ہر شخص جانتا ہے کہ شاگرد جو بھی کام کرتا ہے وہ اُس کے استاد اور آقا کی طرف منسوب ہوتا ہے۔ہر شخص صلى الله جانتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اسلام کو جو فتوحات حاصل ہوئیں اس سے بہت زیادہ فتوحات تھیں جو حضرت ابوبکر کے زمانہ میں اسلام کو حاصل ہوئیں اور پھر حضرت عمرؓ کے زمانہ میں اسلام کو جو فتوحات حاصل ہوئیں وہ اس سے بہت زیادہ تھیں جو حضرت ابو بکر کے زمانہ میں اسلام کو حاصل ہوئیں۔مگر باوجود ملک کے دائرہ کی وسعت کے اور باوجود اُن افراد کی کثرت کے جن پر حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ نے حکومت کی کیا کوئی احمق کہہ سکتا ہے کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ رسول کریم علیہ سے الله صلى الله بڑے تھے۔پس باوجود اس کے کہ حضرت ابو بکر کی حکومت اس سے بہت زیادہ علاقہ پر تھی جتنے علاقہ پر رسول کریم ﷺ کی حکومت تھی اور باوجو د اس کے کہ حضرت ابو بکر