سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 334
سيرة النبي علي 334 جلد 4 جماعت احمد یہ ہی رسول کریم ﷺ کے مقام کا عرفان رکھتی ہے الله حضرت مصلح موعود نے اخبار احسان کے ایک گندے الزام کا جواب دیتے ہوئے 20 اگست 1937ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔افسوس کی بات ہے کہ ایک اخبار کا ایڈیٹر جس کی ذمہ داری یہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ دنیا میں اچھے اخلاق قائم کرے وہ شرافت ، انصاف اور صداقت کو ترک کر کے ایک ایسا حملہ کرے جس میں ایک ذرہ بھی سچائی نہ پائی جاتی ہو۔اور ہمارا تو یہ دعوئی ہو کہ ہم رسول کریم ﷺ کے غلاموں کے بھی غلام ہیں اور وہ یہ کہیں کہ ہم اپنے آپ کو ا رسول کریم علیہ سے بڑا سمجھتے ہیں، اس سے زیادہ جھوٹ اور اس سے زیادہ غلط بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ہاں یہ ایک سچائی ہے اور اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری جماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ جماعت کا جو خلیفہ ہو وہ اپنے زمانہ میں جماعت کے تمام لوگوں سے افضل ہوتا ہے اور چونکہ ہماری جماعت ہمارے عقیدہ کی رو سے باقی تمام جماعتوں سے افضل ہے اس لئے ساری دنیا میں سے افضل جماعت میں سے ایک شخص جب سب سے افضل ہوگا تو موجودہ لوگوں کے لحاظ سے یقیناً اسے ” بعد از خدا بزرگ توئی“ کہہ سکتے ہیں۔مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوں گے کہ وہ نَعُوذُ بِاللہ رسول کریم ﷺ سے بھی بڑا ہے ي نَعُوذُ باللهِ درجہ میں رسول کریم ﷺ کے برابر ہے۔کیونکہ ہماری تمام عزت، ہماری تمام بڑائی ، ہماری تمام ترقی اور ہما را تمام اعزاز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی