سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 333
سيرة النبي علي 333 جلد 4 فتح مکہ کے بعد ہندہ کی عورتوں کے ہمراہ بیعت حضرت مصلح موعود 16 جولائی 1937ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔و فتح مکہ کے بعد رسول کریم ﷺ نے پانچ اشخاص کے متعلق حکم دیا تھا کہ : جہاں بھی ملیں مار دیئے جائیں۔ان میں سے ایک ہندہ بھی تھی مگر وہ چادر اوڑھ کر دوسری عورتوں کے ساتھ بیعت کرنے آ گئی۔رسول کریم ﷺ نے جب بیعت لیتے لیتے کہا کہ کہو ہم شرک نہ کریں گی تو چونکہ وہ بڑی دلیر عورت تھی اس سے نہ رہا گیا۔کہنے لگی کیا ہم لوگ ایسے ہی بیوقوف ہیں کہ اب بھی شرک کریں گے۔آپ اکیلے تھے اور ہم سارے تھے ، ہم نے مخالفت کی مگر آپ ہم میں سے ایک ایک کر کے سب کو چھین کر لے گئے آخر آپ جیتے اور ہم ہارے کیا اس کے بعد بھی ہم شرک کر سکتے ہیں؟ رسول کریم علیہ نے فرمایا کون ہے؟ ہندہ؟ مطلب یہ تھا کہ میں نے تو اس کے قتل کا حکم دیا تھا۔وہ کہنے لگی کہ اب تو میں مسلمان ہو چکی ہوں اب آپ مجھے نئے گناہ 66 پر سزا دے سکتے ہیں پرانے پر نہیں ، وہ معاف ہو گئے 1۔‘“ (الفضل 30 جولائی 1937 ء) 1: السيرة الحلبية الجزء الثالث فتح مكة صفحه 204 205، مطبوعہ بیروت 2012 الطبعة الاولى