سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 332
سيرة النبي علي 332 جلد 4 حفاظت کا وعدہ نہ ہوتا تو آنحضرت یہ بھی اُس دن شہید ہو جاتے۔اُس وقت سوائے ملائکہ کے کس نے آپ کی حفاظت کی۔جس طرح غار ثور کے منہ پر پہنچ جانے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے کفار کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ زیادہ تحقیقات کی ضرورت نہیں اسی طرح اُحد کے موقع پر بھی ان کے دل میں یہ ڈال دیا کہ بس آپ فوت ہو چکے ہیں اب دیکھ بھال کی کیا ضرورت ہے۔اگر کفار اُس وقت جھکتے اور غور سے دیکھتے تو کیا تم سمجھتے ہو کہ وہ کمی کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ڈال دیا کہ آپ فوت ہو چکے ہیں۔یہ انسان کا کام نہیں، انسانوں نے تو آپ کو مروا ہی دیا تھا مگر خدا تعالیٰ نے زندہ رکھا۔اور یہ سب خطرہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ بعض لوگوں نے کہہ دیا کہ ہم اجتہادی طور پر اطاعت کیلئے تیار نہیں ہیں، یہ بالکل خلاف عقل بات ہے۔یہ لوگ منافق نہیں تھے مگر ان کی ذرا سی غفلت سے رسول کریم ﷺ کی ذات ایسے خطرہ میں پڑ گئی کہ آج اس کے حالات پڑھ کر بھی ایک مومن کا دل کانپ اٹھتا ( الفضل 18 جولا ئی 1937 ء) 1:بخارى كتاب المغازى باب غزوة احد صفحہ 684 حدیث نمبر 4043 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الثانية + السيرة النبوية لابن هشام الجزء الثانى ما لقيه الرسول يوم احد صفحه 858 ، 859 مطبوعہ دمشق 2005 ء الطبعة الاولى