سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 310

سيرة النبي عمال 310 جلد 4 جو مڑ گئے مڑ گئے اور جو نہ مُڑے ہم نے تلوار میں نکال کر اُن کی گردنیں اڑا دیں اور پیدل دوڑ پڑے اور لَبَّيْكَ يَارَسُولَ الله ! لبیک کہتے ہوئے آنا فانا آپ کے گرد الله جمع ہو گئے 2۔یہ حالت اخلاص اور اس طرح رسول کریم ﷺ کی آواز پر لبیک کہنے کا واقعہ میں نہیں جانتا لوگوں کے قلوب پر کیا اثر کرتا ہو مگر میرے پر یہ اثر ہوتا ہے کہ سر سے لے کر پاؤں تک لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔تیرہ صدیاں اس پر گزر چکی ہیں جب بھی یہ واقعہ میرے سامنے آتا ہے میری روح لبیک کہتی ہوئی رسول کریم ﷺ کی طرف جاتی ہے اور میں ہمیشہ اس واقعہ کو حشر کے میدان سے تشبیہ دیا کرتا ہوں۔آج بھی خدا تعالیٰ کی آواز محمد مے میں سے ہوتی ہوئی خدا کے مامور اور آخری زمانہ کے مصلح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ بلند ہوئی اور کہ رہی ہے کہ اے احمد یو! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے اور آپ وہ لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو توفیق دی اور اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہو گئے۔پس ان کیفیات کو سامنے رکھتے ہوئے دیکھیں کہ آپ کو یہ ایام کس تقویٰ ، کس محبت و عشق سے گزار نے چاہئیں۔بظاہر ان ایام میں ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھتے نظر آتے ہیں لیکن دراصل خدا تعالیٰ نے ایک ہاتھ بڑھایا ہے جو ہمیں بلا رہا ہے اور ہماری نگاہیں اس کی طرف ہیں پس اپنی ذمہ داری کو محسوس کرو اور ان ایام کو بیکاری اور آوارگی ، سستی وغفلت میں نہ گزارو بلکہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے ، ذکر الہی کرنے اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کو سننے میں گزارو۔ذرا سوچو تو سہی کہ کون ایسا محبت و عشق کا دعوی کرنے والا ہو سکتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا رسول اسے آواز دے تو وہ راستہ میں کھڑا ہوکر بندروں کا تماشا دیکھنے لگے۔یہ دن حشر کے ایام سے مشابہ ہیں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ماں اپنے دودھ پینے والے بچہ کو بھی بھلا دے گی۔آج اپنی ضرورتوں ، رشتہ داروں ، دوستوں ، اپنے کاموں ، اپنے جذبات اور احساسات کو بھی بھول جاؤ تمہارے کانوں