سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 311
سيرة النبي عليه 311 جلد 4 میں ایک ہی آواز گونجے اور وہ خدا تعالیٰ کی آواز ہو اور تمہارا فرض ہے کہ لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھو۔ہم میں سے کتنے ہوں گے جو کہتے ہوں گے کاش! ہم محمد علی لے کے زمانہ میں ہوتے اور اس شمع کے گرد پروانوں کی طرح جل کر راکھ ہو جاتے۔پھر کتنے ہوں گے جن کے دل میں یہ حسرت ہوگی کہ کاش! ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ پاتے اور خدا تعالیٰ کے اس مامور، آخری مصلح، رسول کریم اے کے بروز ، مظہر صلى الله اور خلیفہ کے اردگرد اپنے نفوس اور اپنے اموال قربان کر دیتے۔ایسے تمام لوگوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے بندے کبھی مرا نہیں کرتے بلکہ وہ ہمیشہ کی زندگی پاتے ہیں۔دنیا میں لوگ مرتے آئے ہیں اور سب مرتے جائیں گے مگر رسول کریم دائمی زندگی پانے والے انسان ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے حتی ہونے کی چادر آپ علوس پر ڈال دی ہے اور آپ کو کوئی نہیں مار سکتا۔اسی طرح سب دنیا مرتی ہے اور مرتی جائے گی مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے۔خدا تعالیٰ نے ابدی زندگی کی چادر انہیں اوڑھا دی ہے اور اب کوئی انہیں نہیں مارسکتا۔پس یہ مت خیال کرو کہ تم کس طرح محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابی بن سکتے ہو اور کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مل سکتے ہو۔اگر آج تمہاری روحیں ان کے آستانہ پر گر جائیں اور ان کے روحانی وجود کی طرف بڑھیں تو تم آج بھی وہی رہتے حاصل کر سکتے ہو جو تم سے پہلوں نے حاصل کئے۔ضرورت صرف تقویٰ ، اخلاص اور ایثار کی ہے۔تم ہرگز ہرگز یہ خیال مت کرو کہ جو کچھ پہلوں کو ملا وہ تم کو نہیں مل سکتا صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ اپنے اندر اصلاح پیدا کرو، تقویٰ اور خشیت اللہ پیدا کرو۔یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ ایک سچا عاشق اپنے معشوق کے پیارے سے محبت نہ کرے اور اس کے قریب نہ ہو۔کیا یہ ممکن ہے کہ تم کسی کے ملازم ہو اور تمہارے آقا کا بچہ تمہیں جنگل میں اکیلا ملے اور تم اسے وہیں چھوڑ کر چلے آؤ ؟ پھر یہ خیال کرو کہ اگر تقویٰ اور خشیت سے تم اللہ تعالیٰ کی محبت اپنے اندر پیدا کرلو اور اس کے محبوب بن جاؤ تو اس کا کامل عبد محمد عل ہے کس طرح تم سے الگ ہوسکتا ہے یقیناً جو محمد