سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 309

سيرة النبي علي 309 جلد 4 یعنی میں خدا کا نبی ہوں اور جھوٹا نہیں ہوں اور میری اس طاقت اور جرأت کو دیکھ کر کہ میں چار ہزار تیر اندازوں کے نرغہ میں ہونے کے باوجود آگے ہی بڑھتا جارہا ہوں غلطی سے یہ خیال نہ کرنا کہ مجھ میں خدائی صفات ہیں میں وہی عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔پھر آپ نے حضرت عباس کو جو آپ کے چا بھی تھے مخاطب کر کے فرمایا آپ کی آواز کچی ہے زور سے آواز دیں کہ اے انصار! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔اُس وقت رسول کریم ﷺ نے صرف انصار کو آواز دی۔اس میں کئی حکمتیں تھیں۔ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس شکست کی وجہ مکہ کے بعض لوگ تھے اور چونکہ مہاجرین کے اہل وطن نے کمزوری اور غداری دکھائی اس لئے اس رنگ میں آپ نے لطیف طور پر ان کو زجر کی اور صرف انصار کو آواز دی چنانچہ آپ نے فرمایا عباس! انصار کو آواز دو۔اور جس وقت حضرت عباس نے بلند آواز سے یہ فقرہ دہرایا کہ اے انصار! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے اُس وقت اسلامی لشکر کی یہ حالت تھی کہ ایک صحابی کا بیان ہے کہ ہمارے گھوڑے اور اونٹ ہمارے قبضوں سے نکلے جارہے تھے اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ مکہ اور مدینہ سے ورے یہ نہیں رکیں گے۔میدان سے بھا گنا مسلمان جانتے ہی نہ تھے اور ان کی غیرتیں یہ برداشت ہی نہیں کر سکتی تھیں کہ ان کی سواریاں ان کو بھگالے جائیں اس لئے وہ کہتے ہیں کہ ہم سارا زور انہیں روکنے کیلئے لگا رہے تھے مگر کامیاب نہ ہو سکتے تھے۔ہر بھاگنے والا گھوڑا دوسرے کو اور بھگاتا تھا اور ہر بھاگنے والا سپاہی دوسروں کو اور پراگندہ کرتا تھا۔وہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ ہم بالکل بے بس ہو گئے اور سمجھتے تھے کہ میدان میں واپس آنا ہماری طاقت سے باہر ہے کہ اتنے میں حضرت عباس کی گونجنے والی آواز آئی کہ اے انصار! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے جسے سنتے ہی یوں معلوم ہوا کہ گویا ہم پر بجلی گر گئی ہے، حشر کا دن ہے اور صور اسرافیل پھونکا جارہا ہے۔ہمیں دنیا وَمَافِیهَا کا کوئی ہوش نہ تھا صرف ایک ہی آواز تھی جو ہمارے کانوں میں گونج رہی تھی اور وہ عباس کی آواز تھی۔ہم نے گھوڑوں کو موڑنے کی آخری کوشش کی