سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 308
سيرة النبي علي 308 جلد 4 رسول کریم علیہ کی زندگی کا اثر انگیز واقعہ حضرت مصلح موعود نے 25 دسمبر 1936ء کے خطبہ جمعہ میں رسول کریم ﷺ کی زندگی کے ایک واقعہ پر درج ذیل عارفانہ تبصرہ فرمایا:۔الله ”رسول کریم ﷺ کی زندگی کا ہر واقعہ دوسرے سے بڑھ کر ہے اور ہر واقعہ ایسے انسان کی نگاہ کو جس کے دل میں محبت اور عشق کی چنگاری ہو اپنی طرف کھینچنے کیلئے کافی ہے مگر ان تمام نوادر ، سوانح اور واقعات میں سے جو آپ کو اپنی زندگی میں پیش آئے میرے مذاق کے مطابق لطیف تر اور جاذب تر واقعہ حنین کا ہے اور زیادہ روحانیت کو بڑھانے والا ہے۔اُس وقت بعض حدیث العہد اور نئے مسلمان ہونے والوں کی کمزوری اور بعض کفار کی خود پسندی اور خودی کی وجہ سے جو صرف اظہار شان کی غرض سے مسلمانوں سے مل گئے تھے اسلامی لشکر پر ایک سخت ابتلا آیا۔یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کفار سے زیادہ تھی مگر پھر بھی تمام اسلامی فوج تتر بتر ہو گئی اور رسول کریم کے صرف 12 صحابہ کے ساتھ چار ہزار تیراندازوں کے نرغہ میں گھر گئے۔حضرت ابو بکر اور بعض دوسرے صحابہ نے آپ سے عرض کیا کہ اب ٹھہرنے کا وقت نہیں گھوڑے کی باگ پھیریں اور واپس چلیں تا اسلامی فوج کو دوبارہ جمع کر کے حملہ کیا جائے مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ خدا کے نبی میدانِ جنگ سے پیٹھ نہیں موڑا کرتے اور گھوڑے کی باگ اُٹھائی اور اُسے ایڑ لگا کر اور بھی آگے بڑھایا اور کفار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِب أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِب 1