سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 286 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 286

سيرة النبي علي 286 جلد 4 کیونکہ اللہ تعالیٰ کا نور ایک تریاق ہے جو تمام امراض کا واحد علاج ہے۔جس طرح تریاق کے میسر آنے پر مرض کا فور ہو جاتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کا نور جب انسان میں آجاتا ہے تو اس کے پاس سے تمام امراض روحانی بھاگ جاتے ہیں۔پس ہمارا ماٹو جو خود بخود خدا تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے وہ لَا اِلهَ إِلَّا الله ہی ہے باقی تفصیلات ہیں اور وعظ کے طور پر کام آسکتی ہیں اور وہ سب لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ میں شامل ہیں۔گویا TALALA AND الا اللہ ایک جامع اجمال ہے اور ماٹو اجمال کا ہی نام ہے۔اس زمانہ میں چونکہ دجال اپنی پوری طاقت کے ساتھ دنیا میں رونما ہے اور اُس کا نصب العین یہ ہے کہ میں دنیا کو دین پر مقدم رکھوں گا اس لئے ہمارا فرض ہے کہ اس کے مقابل پر یہ کہیں کہ تم تو دنیا کو دین پر مقدم کرتے ہو لیکن ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اور چونکہ ہم نے دجالی فتنہ کا قلع قمع کرنا ہے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الہام کی بناء پر شرائط بیعت میں ایک یہ شرط بھی رکھی ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا جس میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ اس معاملہ میں دجال سے ہمارا سخت مقابلہ پڑے گا۔وہ دنیا کو دین پر مقدم کر کے دکھلائے گا اور ہم اُس کے جواب میں دین کو دنیا پر مقدم کر کے دکھلائیں گے۔دجال کا مقصد دنیاوی آرام کو حاصل کرنا ہوگا لیکن ہم دین کی راہ میں مصائب کا آنا ایک نعمت تصور کریں گے۔لیکن اگر ہم کو خدا تعالیٰ دنیاوی آرام بھی دے دے تو یہ کوئی بری بات نہیں۔کیا آنحضرت ﷺ نے نہیں فرمایا تھا کہ مجھے قیصر و کسری کے خزانے دیئے گئے ہیں؟ تو اگر خزانوں کا ملنا بری بات ہوتی تو حضور کو کیا نَعُوذُ بِاللهِ) بری چیز دی گئی؟ ہرگز نہیں۔ہاں یہ ضروری ہے کہ ہم دنیا کے تابع نہ ہو جائیں بلکہ دنیا کو اپنے ماتحت اور تابع رکھیں اور اس کو اپنے اوپر سوار نہ ہونے دیں بلکہ ہم اس پر سوارر ہیں۔ورنہ ہماری مثال اُس میراثی کی سی ہوگی جس نے دعا کی تھی کہ اے بھی سرورا مجھے کوئی جانور سواری کیلئے دے۔ابھی وہ چلا جا رہا تھا کہ اُس کو ایک گاؤں کا رئیس مل گیا جس کی گھوڑی نے