سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 287

سيرة النبي عمال 287 جلد 4 راستے میں ہی بچہ دے دیا تھا۔اُس رئیس نے جب میراثی کو دیکھا تو کہا کہ میری گھوڑی کے بچہ کو اٹھا کر شہر لے چل۔یہ عجیب معاملہ دیکھ کر میراثی بول اٹھا واہ سخی سرور ! تو بھی اُلٹی ہی سمجھ کا مالک ہے تجھ سے تو میں نے جانور سواری کیلئے مانگا تھا تو نے اٹھانے کیلئے دے دیا۔تو جو انسان دنیا کو اپنے سر پر اٹھالیتا ہے اُس کی مثال بعینہ اس میراثی کی سی ہے کیونکہ دنیا تو خدا تعالیٰ انسان کو اس لئے دیتا ہے کہ انسان اس پر چڑھے لیکن وہ احمق دنیا کو اپنے سر پر اٹھا لیتا ہے۔پس اصل چیز جس سے دنیا کی ترقی ہے وہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله ہی ہے اور اس کی عینک جس سے یہ نظر آ سکے وہ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہیں۔جس طرح عینک کے بغیر آدمی کچھ نہیں دیکھ سکتا اسی طرح آنحضرت عے کے بغیر انسان لَا إِلَهَ إِلَّا الله کو نہیں دیکھ سکتا۔ال اس زمانہ میں یوں تو اور بھی بہت سی نیکیاں ہیں اور سب کی طرف ہم کو توجہ کرنی چاہئے لیکن تو حید کی طرف خاص توجہ کی ضرورت ہے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا کہ خُذُوا التَّوحِيدَ التَّوْحِيْدَيَا أَبْنَاءَ الْفَارِسِ اے ابنائے فارس! تو حید کو مضبوطی سے پکڑ لو۔تو حید کو مضبوطی سے پکڑ لو۔ابنائے فارس سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان ہی نہیں بلکہ روحانی لحاظ سے ساری جماعت ہی ابنائے فارس کے ماتحت ہے اور یہ حکم تمام جماعت پر مشتمل ہے۔یہ قاعدہ ہے کہ مصیبت کے وقت انسان کسی ایک چیز کو خاص طور پر پکڑا کرتا ہے۔فرمایا کہ تم مصائب کے موقع پر تو حید کو پکڑ لیا کرو کہ اس کے اندر باقی تمام چیزیں آجاتی ہیں۔پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ لا إِلهَ إِلَّا الله کے ماٹو کو ہر وقت اپنے سامنے رکھے کیونکہ اسی میں انسان کی دینی اور دنیاوی فلاح مضمر ہے۔“ ( الفضل 26 دسمبر 1936 ء ) 1: البقرة: 149 2: الاعلى: 17 ، 18