سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 285

سيرة النبي علي 285 جلد 4 66 پس اپنی جگہ پر فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ بہت عمدہ ماٹو ہے اور اسی طرح ” میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا بھی بہت اچھا مائو ہے لیکن کامل موحد بننے کیلئے ضروری ہے کہ انسان کی نظر سے ہر ایک چیز غائب ہو جائے اور ماسوی اللہ اس کے لئے کالعدم ہو جائیں حتی کہ انسان خود بھی غائب ہو جائے اور اُس کو اگر نظر آئے تو صرف خدا تعالیٰ کی ذات نظر آئے پس اپنی اپنی جگہ پر تمام چیزیں اچھی ہیں۔اگر کوئی جماعت کہے کہ ہمارا مطمح نظر یہی ہے کہ ہم لوگوں کو نیکی کی تحریک کیا کریں گے تو یہ اچھی بات ہے اگر کوئی جماعت کہے کہ ہمارا نصب العین فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرُتِ ہے تو یہ بھی اچھی بات ہے اور اگر کوئی کسی اور اچھی بات کو اپنا مائو قرار دے لے تو اُس کو بھی یہ حق حاصل ہے لیکن نبوت کے حقیقی متبع کا ماٹو اس زمانہ میں صرف لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے ہر کمال کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور سب کمال اسی کلمہ میں آتے ہیں مثلاً فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ کو لے لو۔اس استباق اور خیرات کے معنی ہم کہاں سے معلوم کریں۔دین کو دنیا پر مقدم کروں گا فقرہ میں دین اور دنیا اور مقدم کرنا تینوں مضمون بھی تشریح کے محتاج ہیں۔کئی لوگ دین کو دنیا اور کئی دنیا کو دین قرار دیتے ہیں۔کئی مقدم کی تشریح میں اختلاف رکھتے ہیں لیکن لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ ہمیں صرف کمال کا نقطہ ہی نہیں بتاتا بلکہ تشریح اور توضیح کے حصول کا ذریعہ بھی بتاتا ہے۔وہ ایک سو نیکیوں کی جامع لیکن تو حید کی طرف ہمیں بلاتا ہے دوسری طرف تو حید کے سمجھنے میں جو وقتیں پیش آسکتی ہیں ان کے حل کرنے کا طریق ہمیں بتا دیتا ہے۔غرض جس نے مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کو سمجھ لیا اُس نے خدا تعالیٰ کو سمجھ لیا اور جس نے خدا تعالیٰ کو سمجھ لیا اُس نے سب ہی کچھ سمجھ لیا کیونکہ شرک ہی تمام بدیوں، غفلتوں اور گناہوں کی جڑ ہے اور توحید پر قائم ہونے کے بعد انسان میں اخلاق، علم ، عرفان، تمدن، سیاست، حدتِ نظر و حذق یعنی فنون میں کمال سب ہی کچھ آ جاتا ہے 6