سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 284

سيرة النبي متر 284 جلد 4 کی تمام آیات اپنے اپنے مقام پر بہت عمدہ اور مفید ہیں لیکن لا إِلهُ إِلَّا الله سب پر حاوی اور سب سے بڑھ کر ہے اور اس کی مثال یوں سمجھ لو کہ آنحضرت ﷺ فرماتے صلى ہیں کہ اَصْحَابِی كَالنُّجُومِ بِآتِهِمُ اقْتَدَيْتُمُ اهْتَدَيْتُمُ۔یعنی میرے صحابہ ستاروں کی طرح ہیں ان میں سے جس کے پیچھے بھی چلو گے وہ تم کو سیدھے راستہ پر ڈال دے گا۔پس صحابہ کرام تو ستارے تھے لیکن آنحضرت ﷺ عالم روحانی تھے جس کے اندر یہ سب روحانی ستارے بھی آجاتے ہیں۔یہ روحانی ستارے اپنی اپنی جگہ پر تو بہت عمدہ تھے لیکن روحانی سورج سے ان کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔الغرض ہمارے سامنے خدا تعالیٰ کا مقرر کردہ مالو لا اله الا الله تو موجود ہے لیکن لوگ اسلام کے اس ماٹو کو بھول گئے ہیں اور آج کل کے واعظ اپنے وعظوں میں توحید کا نام تک نہیں آنے دیتے بلکہ ادھر اُدھر کی غیر ضروری باتوں کے بیان کرنے میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں حالانکہ توحید کی ضرورت انسان کے ہر ایک کام میں رہتی ہے حتی کہ آنحضرت علی اپنے سونے کے وقت اور وضو کے وقت بھی تو حید کا اقرار فرمایا کرتے تھے کیونکہ تو حید صرف اس امر کا نام نہیں کہ انسان بت پرستی نہ کرے یا کسی شخص کو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں زندہ نہ مانے یا کسی کو خدا کا شریک نہ ٹھہرائے بلکہ دنیا کے ہر ایک کام میں توحید کا تعلق ہے کیونکہ جب بھی کسی انسان کو دنیا کے کسی کام پر ذرہ بھر بھروسہ اور اتکال ہو گیا تو وہ انسان شرک کے مقام پر جا ٹھہرا اور اس کے موحد ہونے کا دعویٰ باطل ہو گیا کیونکہ توحید کی لازمی شرط یہی ہے کہ انسان صرف خدا تعالیٰ کی ذات پر ہی اتکال رکھے کیونکہ توحید کے معنی ہی یہ ہیں کہ ہر کام میں خواہ وہ دینی ہو یا دنیاوی انسان کی نظر صرف ایک خدا کی طرف اٹھے۔جہاں اُس کی نظر ماسوی اللہ کی طرف بلند ہوئی اس میں شرک آ گیا۔حتی کہ انسان کو ہر قدم پر سوچنا پڑتا ہے کہ کہیں میں شرک تو نہیں کر رہا یہاں تک کہ جب آدمی پانی پیتا ہے اور کھانا کھاتا ہے تو اُس وقت بھی دیکھتا ہے کہ کہیں میں اس کام میں شرک تو نہیں کر رہا۔