سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 275 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 275

سيرة النبي علي 275 جلد 4 آنحضرت ﷺ کے ذریعہ توحید کامل کا قیام۔حضرت مصلح موعود نے 28 اگست 1936 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔پچھلے جمعہ میں نے الفضل میں ایک دلچسپ بحث دیکھی اور وہ یہ کہ جماعت احمدیہ کا ماٹو کیا ہونا چاہئے؟ اس مضمون پر دو دوستوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے جو اخبار الفضل میں شائع ہو چکے ہیں اور یہ دونوں اصحاب میرے ماموں ہیں۔اسی ماٹو کے بارہ میں ایک تیسرا مضمون بھی میری نظر سے گزرا ہے جس کے بارہ میں مجھے ابھی تک یہ علم نہیں ہے کہ وہ اخبار میں بھی شائع ہوا ہے یا نہیں؟ ماٹو کے بارہ میں جو دو مضمون اخبار میں شائع ہو چکے ہیں ان میں ایک مضمون میں تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ ہمارا ما لو فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ 1 ہونا چاہئے اور دوسرے مضمون میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ہمارا مطمح نظر جس کو دوسرے الفاظ میں ماٹو کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا“ ہونا چاہئے۔بہر حال یہ ایک قدرتی امر ہے کہ ہر قوم کیلئے کوئی نہ کوئی مطمح نظر ضرور ہوتا ہے اور قدرتی طور پر سب قو میں اپنے اپنے ماٹو کو اپنے سامنے رکھتی ہیں اور اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔مطمح نظر کا اصول یہ ہے کہ جس غرض کیلئے کوئی قوم یا انجمن بنی ہے وہ قوم یا انجمن اس غرض اور مقصد کو ہر وقت اپنے سامنے رکھے۔جس وقت فرانس کے بادشاہوں کے خلاف بغاوت ہوئی تو باغیوں کام مطمح نظر یہ تھا کہ ہم نے حریت، مساوات اور اخوت کو حاصل کر کے رہنا ہے اور اس مضمون کے بورڈ لکھ لکھ کر انہوں نے مختلف مقامات پر لگا دیئے تھے اور اپنی تقریروں میں بھی وہ ان باتوں پر زور دیتے