سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 274
سيرة النبي عمال 274 جلد 4 رہے تھے اور وہ اوجھڑی حضور پر نہیں پھینکی گئی تھی بلکہ دراصل خدا تعالیٰ پر پھینکی گئی تھی اور جب حضور کے گلے میں رسی ڈالی گئی تھی تو محض محمد اللہ کے گلے میں نہیں بلکہ اُس محمد کے گلے میں ڈالی گئی تھی جو رسول اللہ ہونے کا مدعی اور خدا تعالیٰ کا نام لینے والا تھا۔پس یہ سلوک گویا حضور سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے تھا۔“ نیز فرمایا:۔( الفضل 9 اگست 1936 ء ) پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تکالیف اور مصائب کو اسی نقطہ نگاہ سے دیکھے کہ یہ قرب الہی کے حصول کیلئے ایک ذریعہ ہیں۔ہم کو تو صرف گالیاں دی جاتی ہیں اور کچھ تھوڑی سی تکالیف دی گئی ہیں۔نبی کریم ﷺ کے صحابہ کو تو گالیاں بھی دی گئیں اور انہیں قتل بھی کیا گیا اور جلا وطن بھی کیا گیا حتی کہ عورتوں تک کو شدیدا بتلاؤں میں سے گزرنا پڑا۔خود رسول کریم ﷺ کی ایک صاحبزادی جب اُن کے خاوند نے اس وجہ سے انہیں مدینہ روانہ کر دیا کہ مکہ والے ان کو تکلیف دیتے تھے ان پر بزدل کفار نے حملہ کیا اور سواری سے گرا دیا۔اُس وقت وہ حاملہ تھیں اسی صدمہ سے اُن کا حمل ساقط ہو گیا اور اسی تکلیف کی وجہ سے وہ آخر فوت ہو گئیں 2۔پس خدا کی راہ میں تکلیف پانا عزت ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ عزت کیلئے پیدا کئے 66 گئے تھے اگر یہ چیزیں عزت نہ ہوتیں تو آپ کو ہرگز ان باتوں سے واسطہ نہ پڑتا۔“ 1: يونس: 17 الفضل 9 اگست 1936 ء ) 2 السيرة النبوية لابن هشام الجزء الاول خروج زينب الى المدينة صفحه 716،715 مطبوعہ دمشق 2005 ء الطبعة الاولى