سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 276

سيرة النبي علي 276 جلد 4 تھے اور بازاروں میں پھر پھر کر لوگوں کو اپنے اس مطمح نظر کی طرف توجہ دلاتے تھے۔انگلستان کی تاریخ سے بھی یہ بات صاف طور پر معلوم ہوتی ہے کہ جب بھی وہاں اختلاف پیدا ہوا تو جو قوم بھی اٹھی ہے اس نے اپنے لئے ضرور کوئی نہ کوئی ماٹو تجویز کیا ہے جس کو وہ اپنے سامنے رکھتی تھی۔پس تمام سوسائٹیاں اور انجمنیں یہ بتانے کیلئے کہ ہم کو دوسری قوموں سے کیا امتیاز ہے اپنے لئے ایک خاص مطمح نظر تجویز کر لیتی ہیں۔کوئی انجمن یہ قرار دے لیتی ہے کہ اخلاق کی درستی اُن کے نزدیک سب سے بالا ہے، کوئی قوم یہ کہتی ہے کہ سب سے مقدم تعلیم کی ترقی ہے، کوئی سوسائٹی اپنا نصب العین یہ ٹھہرا لیتی ہے کہ ہم نے آزادی کو حاصل کرنا ہے اور اس کے بغیر ہماری زندگی ، زندگی کہلانے کی مستحق ہی نہیں۔غرضیکہ کوئی انجمن سیاسی ہوتی ہے تو کوئی تعلیمی اور ہر ایک نے اپنے لئے کوئی نہ کوئی ماٹو تجویز کر رکھا ہوتا ہے اور وہ اس بات کا خاص طور پر خیال رکھتے ہیں کہ جس بات کیلئے ہماری جماعت قائم ہوئی ہے اس کو دنیا میں قائم کرنا ہے اور اس بات کو اپنی جماعت کے سامنے بھی ہر وقت موجود رکھنا ہے۔دنیا میں ہزاروں قسم کی نیکیاں ہیں اگر ہم ان میں سے ایک نیکی کو چن لیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ دوسری نیکیاں اس قابل نہیں کہ ان کے حصول کی کوشش کی جائے اور صرف یہ ایک نیکی جس کو ہم اختیار کرنے پر زور دے رہے ہیں اس قابل ہے کہ اس کو اختیار کیا جائے بلکہ مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ فلاں فلاں نیکی کا حاصل کرنا ہمارے لئے ذرا دقت طلب سی بات ہے لیکن اس نیکی کے حصول میں ہم کو چند در چند سہولتیں ہیں اس لئے ہم اس کی طرف اپنی توجہ کو زیادہ مبذول کرتے ہیں۔اسی اصول کے ماتحت جس قوم کو تعلیم سے دلچسپی ہوتی ہے وہ تعلیم کو اور جس قوم کو نظام سے دلچسپی ہوتی ہے وہ نظام کو اپنا مائو قرار دے لیتی ہے اور جس قوم کو مثلاً سے دلچسپی ہے وہ ورزش کو اپنا مائو قرار دے لے گی۔غرضیکہ جس جس کام سے