سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 273
سيرة النبي علي 273 جلد 4 رسول کریم ﷺ کا راہ خدا میں مصائب اٹھانا حضرت مصلح موعود نے 31 جولائی 1936ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔قرآن مجید کے نزدیک ذلت یہ نہیں کہ لوگ ہم کو گالیاں دیں کیونکہ گالیاں تو آنحضرت ﷺ کو بھی دی گئیں ، حضور پر اوجھڑی بھی پھینکی گئی تو کیا گالیاں دی جانے اور اوجھڑی پھینکے جانے سے حضور کی ذلت ہوئی ؟ ہرگز نہیں۔حضور کا نام ہی محمد ہے جس کے معنی عزت دیا گیا کے ہیں۔پس جو واقعہ بھی حضور سے گزرا وہ یقیناً سراسر عزت ہے۔اگر یہ بات نہیں تو خدا تعالیٰ جھوٹا ٹھہرتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنے ہوں گے کہ ایک طرف تو خدا تعالیٰ حضور کو محمد کہتا ہے اور دوسری طرف نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ ذلیل ہونے دیتا ہے۔پس اگر گالیوں کا ملنا ذلت ہے تو یہ ہرگز آنحضرت ﷺ کو نہ دی جاسکتیں۔ہاں ایک فرق ضرور ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کیلئے گالیاں کھانا عزت ہے لیکن اپنی ذات کیلئے گالیاں کھانا کبھی ذلت کا موجب بھی ہوسکتا ہے۔رسول کریم می صلى الله کو ذاتی طور پر لوگ صادق اور امین کے نام سے یاد کیا کرتے تھے لیکن جونہی حضور نے اللہ تعالیٰ کا نام لیا لوگوں نے حضور کو کاذب کہنا شروع کر دیا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں آنحضرت ﷺ کی طرف یہ قول نقل فرمایا که فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمُ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ اَفَلَا تَعْقِلُونَ 1 یعنی دعوی نبوت سے قبل کیا کسی نے تم میں سے مجھے گالی دی یا کوئی اعتراض کیا ؟ ہاں جو نہی میں نے خدا تعالیٰ کا نام لیا تو تم نے مجھ کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔تو یہ گالیاں وہ لوگ حضور کو نہیں دے رہے تھے بلکہ در حقیقت خدا تعالیٰ کو د۔الله