سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 272

سيرة النبي عمار 272 جلد 4 معاہدہ بھی ان کی منشا کے مطابق کیا۔یہی حضرت عباس جب بدر کی جنگ میں مسلمان ہونے سے پہلے قید ہوئے تو حضور نے ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا۔جس طرح باقی قیدیوں کو رسیوں میں جکڑا گیا اسی طرح ان کو جکڑا گیا اور بوجہ رفاہیت کی زندگی کی عادت کے ان کو کئی دوسرے قیدیوں سے زیادہ تکلیف پہنچی اور وہ شدت درد سے کراہتے رہے۔چنانچہ بعض صحابہ نے رات کے وقت حضور علیہ السلام کو دیکھا کہ آپ بار بار کروٹیں بدل رہے ہیں اور آپ کو بے چینی کی تکلیف معلوم دیتی ہے۔اس پر بعض صحابہ نے عرض کی کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حضور کو نیند نہیں آرہی اور کچھ بے چینی سی ہے۔حضور نے فرمایا ہاں میں بے چین ہوں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شاید عباس کی رسیاں زیادہ سخت باندھی گئی ہیں کیونکہ وہ کراہ رہے ہیں ان کی تکلیف کو دیکھ کر مجھے بے چینی محسوس ہو رہی ہے اور میں سو نہیں سکتا۔صحابہ نے عرض کیا کہ حضور! یہ تو معمولی بات ہے ہم اسی وقت حضرت عباس کی رسیاں ڈھیلی کر دیتے ہیں۔حضور نے فرمایا نہیں! یا تو سب قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی کر دی جائیں ورنہ عباس کی رسیاں بھی اسی طرح رہنے دی جائیں۔چنانچہ حضرت عباس اور باقی تمام قیدیوں کی رسیاں ڈھیلی کر دی گئیں 2 اور حضرت عباس کو آرام مل گیا تب حضور آرام کی نیند سوئے۔پس بادشاہت سے حضور نے یا حضور کے دوستوں اور رشتہ داروں نے قطعاً کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔وہ بادشاہت تو خدا تعالیٰ کیلئے تھی اور اس بادشاہت میں آپ کو ویسی ہی انفرادی عزت حاصل تھی جیسی اور لوگوں کو تھی۔“ ( الفضل 9 اگست 1936ء) 66 1 ابوداؤد كتاب الخراج باب فى بيان مواضع قسم الخمس صفحہ 436 حدیث نمبر 2987 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الأولى 2: اسد الغابة الجزء الثانى عباس بن عبدالمطلب صفحہ 530 مطبوعہ بیروت 2006ء الطبعة الاولى