سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 271

سيرة النبي علي 271 جلد 4 کوئی بھی حاصل نہیں کیا بلکہ حضور نے اپنی تمام تر زندگی میں لوگوں کیلئے قربانی ہی پیش کی۔حضور نے ممالک مفتوحہ اور جائیدادوں کو اپنا ہرگز قرار نہیں دیا۔حضور کی وفات کے بعدسنی شیعہ کا جو اختلاف پیدا ہوا اس عظیم الشان اختلاف کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ حضور نے جائیدادوں اور ممالک مفتوحہ کو اپنی ذاتی چیز اور ملکیت قرار نہیں دیا اور یہ جائزہ نہیں ٹھہرایا کہ یہ اشیاء حضور کے خاندان کی طرف بطور ورثہ کے منتقل ہوسکیں۔پس حکومت سے حضور نے اپنی ذات کیلئے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔حضور کی اولاد کے بارہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضور نے ان کیلئے کوئی چیز بھی دنیا میں نہیں چھوڑی۔حتی کہ حضور کی وفات کے وقت حضور کی بہت سی اشیاء گرو رکھی ہوئی ثابت ہوئیں۔انسان کو اپنی زندگی میں بعض اوقات ایسی ضروریات پیش آجاتی ہیں کہ اسے اپنی مملوکہ اشیاء گرو رکھنی پڑتی ہیں اسی طرح حضور پر بھی تنگی اور فراخی کے زمانے آتے رہتے تھے۔خود حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بارہ میں آتا ہے کہ ایک جنگ میں جب بہت سا مال آیا تو حضرت فاطمہ نے حضور سے درخواست کی کہ اس مال میں سے ایک لونڈی مجھے عنایت فرمائی جائے جو میرا کام کاج کرے۔حضور نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ یہ مال میرا تو نہیں ہے یہ تو خدا تعالیٰ کا ہے۔میں تم کو اس مال میں سے کچھ نہیں دے سکتا تم خدا تعالیٰ کا ذکر کیا کرو اور لونڈی کا خیال ترک کر دو 1۔پھر حضور کے دوستوں کو لو۔رسول کریم عمل کے دوست ایسے لوگ تھے جنہوں نے حضور کی بہت خدمات کیں لیکن حضور نے ان سے کوئی ایسا سلوک نہیں کیا جن میں دوسرے لوگوں پر ان کو ترجیح دی گئی ہو۔حضرت عباس حضور کے چا بھی تھے اور دوست بھی کیونکہ عمر میں برابر کے تھے ان کے تعلقات حضور سے اس قدرا ہم تھے کہ جب کچھ لوگ مدینہ منورہ کے مسلمانوں میں سے حج کرنے آئے اور انہوں نے چاہا کہ حضور کو اپنے ساتھ مدینہ لے چلیں تاکہ حضور مکہ کی تکالیف سے محفوظ ہو جاویں اُس وقت حضور نے ان کی ملاقات کیلئے صرف حضرت عباس کو اپنے ساتھ لیا اور