سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 236

سيرة النبي علي 236 جلد 4 نظارہ دیکھا کہ مسلمانوں کے ہاتھوں قیصر کے قلعے تباہ ہو گئے ہیں۔دوسرے شعلہ میں مجھے کسریٰ کے قلعوں کی تباہی کا نظارہ دکھائی دیا اور تیسرے میں حمیر کے قلعے بھی سرنگوں نظر آئے 1۔اُس وقت بھی منافقوں نے ہنسی اڑائی اور کہا کہ جان بچانے کیلئے خندق کھودرہے ہیں اور مدینہ سے باہر نکل نہیں سکتے مگر خواب دیکھ رہے ہیں قیصر و کسری کے محلات کے۔گویا وہ زمانہ مسلمانوں کیلئے اس قدر مشکلات کا زمانہ تھا کہ منافق جو بز دل ہوتے ہیں وہ بھی دلیری سے ان پر ہنسی کرنے لگ گئے تھے۔قرآن کریم نے بھی غزوہ احزاب یا خندق کا نظارہ بیان کر کے بتایا ہے کہ اُس وقت مسلمانوں کی یہ حالت تھی کہ گویا وہ زلزلہ میں مبتلا ہیں اور زمین اپنی فراخی کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی تھی۔2۔بظاہر اس زبردست لشکر کے مقابل پر صحابہ کا زور نہیں چلتا تھا مگر پندرہ روز کے بعد آدھی رات کے وقت رسول کریم ﷺ نے آواز دی اور فرمایا کوئی ہے؟ مگر کسی نے جواب نہ دیا۔ایک صحابی نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا تم نہیں کوئی اور۔پھر فرمایا کوئی جاگتا ہے؟ مگر کوئی نہ بولا۔اُسی صحابی نے پھر کہا يَارَسُوْلَ اللہ ! میں حاضر ہوں مگر آپ نے پھر فرمایا تم نہیں کوئی اور۔اور پھر تیسری دفعہ آواز دی مگر پھر بھی کوئی نہ بولا اور پھر اُسی نے آواز دی اور آپ نے فرمایا کہ جاؤ دیکھو مجھے اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے کہ کفار کا لشکر تتر بتر ہو گیا ہے۔وہ صحابی باہر نکلے تو دیکھا کہ سب میدان خالی پڑا ہے، نہ غنیم کا کوئی خیمہ تھا اور نہ سامان۔ایک اور صحابی بیان کرتے ہیں کہ میں اُس وقت جاگتا تھا مگر سردی شدید تھی اور کپڑے نا کافی تھے اور سردی کی وجہ سے باوجود جاگنے کے منہ سے بات نہ نکلتی تھی 3۔کفار کے بھاگنے کا واقعہ یہ ہے کہ ایک عرب سردار کی آگ بجھ گئی ، اہل عرب اس بات کو منحوس خیال کرتے تھے ، اس نحوست کے دور کرنے کیلئے اس قبیلہ نے اپنے رواج کے مطابق یہ طریق تجویز کیا کہ رات کے وقت اپنے خیمے وہاں سے اٹھا کر چند میل کے فاصلے پر لے جا کر لگائیں اور اگلے روز پھر وہیں آلگائیں اور جب رات کو