سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 237

سيرة النبي عمال 237 جلد 4 چپکے سے انہوں نے خیمے اکھاڑنے شروع کئے تو ساتھ والوں نے خیال کیا کہ شکست ہوگئی ہے اور یہ لوگ بھاگ رہے ہیں انہوں نے بھی فوراً اپنے خیمے اٹھانے شروع کر دئیے۔ان کو دیکھ کر ان کے پاس والوں نے بھی ایسا ہی کیا حتی کہ ابوسفیان کو جو اس لشکر کا سپہ سالار تھا خبر ہوئی تو اُس نے خیال کیا کہ مسلمانوں نے شب خون مارا ہے اس لئے یہاں سے جلدی بھاگنا چاہئے۔چنانچہ وہ اس قد رگھبرایا کہ اونٹ کو کھولے بغیر اُس پر سوار ہو کر اُسے مارنے لگ گیا مگر وہ چلتا کس طرح۔آخر اس کے کسی ساتھی نے اُس پر اُس کی غلطی کو واضح کیا۔یہ البہی نصرت تھی جس نے اُس وقت جب انسانی تدابیر بیکار ہو چکی تھیں آسمان سے نازل ہوکر رسول کریم ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کو نجات دی۔پس آسمانی نصرت اُسی وقت آتی ہے جب ساری تدابیر انتہا کو پہنچ کرختم ہو جاتی ہیں اور کامیابی کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتیں۔جب وہ دنیا دار نگاہوں میں مضحکہ خیز اور روحانی نظر والوں کے لئے رقت انگیز ہو جاتی ہیں اُس وقت خدا تعالیٰ کے فضل کے دروازے کھلتے ہیں مگر اس کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ بندہ چلائے۔“ ( الفضل 27 مارچ 1936ء) 1: السيرة الحلبية الجزء الثالث غزوة الخندق صفحہ 11 مطبوعہ بیروت 2012 ء الطبعة الاولى 2: الاحزاب : 12 3: السيرة الحلبية الجزء الثالث غزوة الخندق صفحہ 28 تا 30 مطبوعہ بیروت 2012 ء الطبعة الاولى