سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 235

سيرة النبي علي 235 جلد 4 جنگ احزاب کی مشکلات اور نصرت الہی حضرت مصلح موعود 20 مارچ 1936ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔جنگِ احزاب کے موقع پر جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے منافق مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے تھے کہ یہ مسلمان تو کہا کرتے تھے کہ دنیا کی بادشاہت ہمیں مل جائے گی آج ان کی عورتوں کیلئے پاخانہ پھرنے کی جگہ بھی نہیں رہی۔کہاں گئے ان کے وہ دعاوی۔اس جنگ میں دس ہزار کفار کا لشکر مسلمانوں کے مقابل پر تھا اور سارے عرب قبائل جمع ہو کر آئے تھے اُدھر یہودیوں نے مدینہ میں بغاوت کر دی تھی اُس وقت سوائے اس کے کہ مسلمان خندق بنا لیتے ان کے بچاؤ کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔چنانچہ حضرت سلمان فارسی کے مشورہ سے رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو حکم دیا کہ خندق کھودیں اور جب وہ خندق کھود رہے تھے تو ایک پتھر ایسا آیا جو ٹوٹنے میں نہ آتا تھا۔صلى الله رسول کریم علیہ کو اطلاع دی گئی آپ وہاں تشریف لائے اور جب زور سے کدال مارا تو پتھر میں سے آگ نکلی اور آپ نے زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا۔صحابہ نے بھی نعرہ لگایا۔پھر کدال مارا تو پھر آگ نکلی اور آپ نے پھر نعرہ تکبیر بلند کیا اور صحابہ نے بھی آپ کی تقلید کی۔تیسری دفعہ کدال مارا تو پھر آگ نکلی اور آپ نے پھر زور سے الله اکبر کہا اور صحابہ نے بھی ایسا ہی کیا۔جب وہ پتھر ٹوٹ گیا تو آپ نے صحابہ سے دریافت کیا کہ تم نے نعرے کیوں لگائے ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا کہ آپ نے لگائے تھے اس لئے ہم نے بھی لگائے۔آپ نے فرمایا ہاں میں نے تین بار نعرہ تکبیر بلند کیا جس کی وجہ یہ تھی کہ جب پہلی دفعہ پتھر میں سے آگ نکلی تو میں نے اُس شعلہ میں یہ