سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 10
سيرة النبي عالي 10 جلد 4 کر دے کیونکہ یہ دونوں پُر جوش اور اعزاز رکھنے والے تھے۔جب بہن کے گھر پہنچے تو دروازہ اندر سے بند تھا اور اندر ایک صحابی قرآن شریف پڑھا رہے تھے۔انہوں نے دستک دی تو اندر سے پوچھا گیا کون ہے؟ انہوں نے کہا میں ہوں جلدی کھولو۔انہوں نے حضرت عمر کی آواز سن کر اس صحابی کو تو کہیں چھپا دیا اور قرآن کے اوراق بھی پوشیدہ کر دیئے پھر دروازہ کھولا۔حضرت عمر نے غصہ سے پوچھا دروازہ کھولنے میں دیر کیوں لگی ہے؟ کہا گیا یونہی دیر ہوگئی ہے۔کہنے لگے بتاؤ کیا وجہ تھی ؟ انہوں نے کچھ عذر وغیرہ کئے مگر ان کی تسلی نہ ہوئی اور چونکہ طبیعت میں سخت جوش تھا اس لئے بہنوئی کو مارنا شروع کر دیا۔ان کی بہن اپنے خاوند کو بچانے کے لئے آگے بڑھیں تو چونکہ حضرت عمر جوش میں ہاتھ اٹھا چکے تھے اس لئے بہن کے بھی ایک مکا لگا اور خون بہنے لگا۔حضرت عمر جہاں نہایت سخت مزاج تھے وہاں رقیق القلب بھی بہت تھے۔بہادر آدی جب عورت پر وار ہوتے دیکھتا ہے تو سخت ندامت اور پشیمانی محسوس کرتا ہے۔اسی بنا پر حضرت عمر بھی نادم ہوئے اور کہنے لگے اچھا مجھے دکھاؤ تو تم کیا پڑھ رہے تھے؟ اس طرح انہوں نے اپنی شرمندگی کا اظہار کرنا چاہا۔میں نے ابھی بتایا ہے کہ بہادر آدمی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا کرتا۔پھر میں نے یہ بھی کہا ہے کہ حضرت عمر اپنی لونڈی کو پیٹا کرتے تھے۔دراصل اُس زمانہ کے اخلاق کے لحاظ سے لونڈی اور غلام انسان نہیں سمجھے جاتے تھے اس لئے انہیں مارنا پیٹنا کوئی بات نہ تھی۔لیکن ایک کر اور آزاد عورت پر ہاتھ اٹھا نا سخت عیب متصور ہوتا تھا۔انہوں نے جب قرآن کے اوراق مانگے تو بہن نے کہا ہم نہیں دیں گے، تم ان کی بے حرمتی کرو گے۔انہوں نے قسم کھائی کہ میں بے حرمتی نہیں کروں گا۔اس پر قرآن کی آیات دکھائی گئیں۔چونکہ دل پہلے ہی رقت حاصل کر چکا تھا اور روحانیت کا دروازہ کھل چکا تھا اس لئے جوں جوں پڑھتے جاتے آنکھوں سے آنسو رواں ہوتے جاتے۔پھر سیدھے رسول کریم ﷺ کے پاس پہنچے۔وہاں بھی صحابہ دروازے بند کئے بیٹھے تھے۔جب