سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 9
سيرة النبي علي 9 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی دعاؤں اور اخلاق کے اثرات حضرت مصلح موعود 24 فروری 1933 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔”دیکھو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ہمیں برا تو کہتے ہو لیکن اَوَلَمْ يَرَوْا انَّا نَاتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا 1 کچھ پتہ بھی ہے تمہارے بیٹے اور بیٹیاں، بھانجے اور بھانجیاں، عزیز اور رشتے دار سب کو ایک ایک کر کے محمد ماہ کی گود میں لا رہے ہیں۔اسلام کے زمانہ میں ہمیں یہ نظارے نظر آتے ہیں۔ایک شخص شدید دشمن ہوتا ، رات اور دن رسول کریم ﷺ کی مخالفت میں لگارہتا مگر وہ خود یا اس کا کوئی عزیز بیٹا یا بیٹی، بیوی یا بہن داخل اسلام ہو جاتی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہی واقعہ ہے۔وہ اپنی جوانی کے دنوں میں اسلام کی مخالفت میں بہت بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے۔حتی کہ ان کے گھر کی ایک خادمہ مسلمان ہو گئی تھی وہ اسے سخت پیٹا کرتے۔اور جب خود مسلمان ہو گئے تو وہ یہ کہہ کر چڑایا کرتی کہ تم تو مجھے مسلمان ہونے کی وجہ سے پیٹا کرتے تھے اب خود مسلمان ہو گئے ہو۔انہوں نے ایک دفعہ عزم کیا کہ رسول کریم کو قتل کر دیں۔تلوار سنبھالے جارہے تھے کہ راستہ میں انہیں ایک دوست ملا۔اس نے پوچھا خیر تو ہے کدھر کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے محمد (ﷺ) کو قتل کرنے جارہا ہوں۔اس نے کہا واہ واہ ! بڑے باغیرت ہو محمد ﷺ کو تو قتل کرنے چلے ہو مگر اپنے دل کا حال معلوم نہیں کہ بہن اور بہنوئی مسلمان ہو چکے ہیں۔کہنے لگے ہیں! یہ بات ہے اچھا میں پہلے ان کا ہی صفایا کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے رسول کریم ﷺ ہمیشہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ یا اللہ ! ابو جہل یا عمر بن الخطاب ان دونوں میں سے کسی کو مسلمان