سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 11
سيرة النبي عمال 11 جلد 4 انہوں نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا تو چونکہ بڑے تیز مزاج تھے بعض صحابہ کو خدشہ پیدا ہوا کہ ایسا نہ ہو یہ بختی کریں۔حضرت حمزہ نے کہا کوئی بات نہیں دروازہ کھول دو۔اگر اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس کا سر توڑ دوں گا۔دروازہ کھولا گیا اور حضرت عمر اندر آئے۔رسول کریم علیہ نے ان کے دامن کو جھٹکا دے کر فرمایا عمر ! کس نیت سے آئے ہو؟ انہوں نے گردن جھکائی اور عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! آپ کی بیعت کرنے کیلئے آیا ہوں 2۔غرض یہ سزا تھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مخالفین کو مل رہی تھی۔اور یہی سزا ہے جو نیکی اور تقویٰ پیدا کرتی ہے۔اگر ہم کسی کو مار دیتے ہیں تو اسے ہمیشہ کے لئے نیکی سے محروم کر دیتے ہیں اور اگر کسی کو گالی دیتے ہیں تو بھی اس کے دل میں بغض پیدا کر کے اسے نیکی سے محروم کرتے ہیں۔صحیح اور مفید طریق یہ ہے کہ ظالم کی بجائے ہم مظلوم بنیں۔اور اگر دشمن غصے اور کینہ کا اظہار کرے تو ہم نرمی، محبت اور ملائمت میں ترقی کرتے جائیں۔اگر وہ دنیا کی اصلاح سے ہمیں رو کے تو ہم اور زیادہ اس اصلاح پر کمر بستہ ہو جائیں۔اس زمانہ میں بھی میں دیکھتا ہوں کہ پھر احمدیت کے خلاف جوش پیدا ہو رہا ہے۔اس کے مقابلہ میں میں دیکھتا ہوں کہ بعض احمد یوں کے دلوں میں بھی ویسا ہی جوش ہے جیسے حضرت حمزہ کے دل میں تھا کہ انہوں نے کہا آنے تو دو اگر اس نے کوئی خلاف حرکت کی تو اس کا سر توڑ دوں گا۔یہ حضرت حمزہ کے الفاظ تھے۔مگر رسول کریم ﷺ نے یہ نہیں کہا کہ میں سر توڑ دوں گا بلکہ آپ نے کہا عمر ! تم کب تک ہمارے پیچھے پڑے رہو گے۔انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میں تو تو بہ کرنے آیا ہوں 3۔رسول کریم علیہ کے کیا درد کے الفاظ ہیں اور کس طرح محبت ان میں کوٹ صلى الله کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔گویا ایک طرف تو رسول کریم ﷺ انہیں یہ بتا رہے ہیں کہ تم ہمیشہ ظلم کرتے ہو اور پھر یہ بھی اظہار فرمارہے ہیں کہ ہم کبھی اس ظلم کا جواب نہیں دیتے۔اور تیسری طرف یہ پوچھ رہے ہیں کہ عمر ا تم نیکی کا کب تک انکار کرو گے۔یہی