سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 216

سيرة النبي علي 216 جلد 4 رسول کریم ﷺ نے مقررہ جگہ پر پہنچ کر حضرت ابو بکر کو ساتھ لیا اور غار ثور پر جا پہنچے۔میں اُس غار کے قریب تک گیا ہوں لیکن افسوس ہے کہ دل کے ضعف کی وجہ سے میں عین اُس کے دہانہ پر نہیں پہنچ سکا۔سو پچاس گز کے فاصلہ پر تھک کر رہ گیا۔رستہ سخت دشوار گزار ہے اور میرا دل چونکہ زیادہ چڑھائی پر چڑھنے سے دھڑ کنے لگتا ہے اس لئے میں عین وہاں تک نہ پہنچ سکا مگر اپنے ایک ساتھی کو وہاں تک بھیجا جس نے بتایا کہ کئی گز چوڑا منہ ہے۔غرض آنحضرت علیہ حضرت ابو بکر کو لے کر وہاں پہنچ گئے۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ چونکہ تہجد کی نماز پڑھنے کے لئے کعبہ میں جایا کرتے تھے اس لئے کفار کا ارادہ یہ تھا کہ جب تہجد کے لئے گھر سے باہر نکلیں گے تو قتل کر دیا جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ آپ جب گھر سے نکلے تو کسی نے یہ دریافت ہی نہیں کیا کہ کون ہے۔انہیں یقین تھا کہ آپ لیٹے ہوئے ہیں ( چار پائی پر یا زمین پر جہاں بھی آپ سوتے تھے ) کیونکہ حضرت علی انہیں آپ کی جگہ پر لیٹے ہوئے نظر آتے تھے۔صبح کے وقت جب آپ گھر سے نہ نکلے بلکہ ان کی جگہ حضرت علی گھر سے نکلے تو اُن کو بہت حیرت ہوئی اور اُن کو پتہ لگ گیا کہ آپ رات کو چلے گئے ہیں اس لئے کھوجیوں کو بلایا گیا اور تعاقب کیا گیا۔کھوجی تعاقب کرنے والوں کو لے کر اس غار پر پہنچا اور کہا کہ نشان یہیں تک ہے یا تو وہ اس غار کے اندر ہیں اور یا آسمان پر چلے گئے ہیں۔عرب کے کھو جی بہت ماہر ہوتے تھے اور اُن کی بات پر اعتبار کیا جاتا تھا لیکن اُس وقت اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسا تصرف اُن کے دلوں پر کیا کہ باوجود کھوجی کے اصرار کے اُنہوں نے یقین نہ کیا کہ آپ اس غار میں ہیں۔وجہ یہ ہوئی کہ غار کے ارد گرد اُس کے دہانہ پر جھاڑیاں ہیں۔رسول کریم ﷺ کے اندر جانے کے بعد ان پر کڑیوں نے جالا تن دیا۔ہر شخص جانتا ہے کہ مکڑی ایک منٹ میں جالاتن دیتی ہے۔ہم بچپن میں یہ کھیل دیکھا کرتے تھے کہ ایک مکڑی نے جالا تنا شروع کیا ہے اور ایک منٹ میں تن دیا ہے مگر تصرف الہی کے ماتحت اُن کی عقل ایسی ماری گئی کہ