سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 217
سيرة النبي علي 217 جلد 4 انہوں نے خیال کیا کہ اس غار میں کوئی نہیں اترا کیونکہ اگر کوئی اثر تا تو یہ جالے ٹوٹ جاتے۔اُس وقت جب کھوجی یہ باتیں کر رہا تھا کہ آپ یا اس غار میں ہیں یا آسمان پر چلے گئے ہیں اُس وقت کیا مشکل تھا کہ وہ نیچے جھانک کر دیکھ لیتے مگر یہ بھی ایک معجزہ ہے کہ کسی کو اس کی توفیق نہ ہوئی۔لیکن کھوجی کے یہ الفاظ کہنے سے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ مکہ کے لوگ ضرور غار کے اندر اتر کر دیکھیں گے۔پس اُس وقت حضرت ابوبکر نے گھبرا کر کہا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! اب کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا کہ گھبراہٹ کی بات نہیں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! مجھے اپنے متعلق تو کوئی گھبراہٹ نہیں۔کیونکہ اگر میں مارا گیا تو میں ایک فرد ہوں مجھے آپ کے متعلق فکر ہے کیونکہ اگر آپ مارے گئے تو دین اور امت تباہ ہو جائیں گے۔یہ محبت بھرے الفاظ اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آئے کہ رسول کریم ﷺ کو وحی ہوئی کہ اپنے ساتھی سے کہہ دو کہ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللهَ مَعَنَا 2 - جس کا مطلب یہ تھا کہ اے رسول! تو ابو بکر سے کہہ دے کہ رسول کے لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔اللہ نہ صرف اس کا بلکہ اس کا ساتھی ہونے کی وجہ سے تیرا بھی محافظ ہے۔بعض نادان اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ گھبرا گئے مگر یہ نہیں سوچتے کہ یہ گھبراہٹ اپنے لئے نہیں تھی بلکہ رسول کریم ﷺ کی خاطر تھی۔آپ کی اس حرکت پر ایک اعتراض ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ کیا ان کا یہ ایمان نہ تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا ؟ اور اس کا جواب یہ ہے کہ عشق است و ہزار بد گمانی جب عشق کمال کو پہنچ جائے تو اس کے ماتحت کئی قسم کے تو ہمات شروع ہو جاتے ہیں اور وہ بھی قابل قدر ہوتے ہیں۔حضرت خلیفہ اوّل مجھ سے بہت محبت کرتے تھے۔بعض دفعہ کوئی غیر میری شکایت کر دیتا تو مجھ سے پوچھتے۔جب میرا جواب سن لیتے تو کہتے میاں برا نہ منانا د عشق است و هزار بدگمانی