سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 215
سيرة النبي عمال 215 جلد 4 ترجمہ دو میں سے دوسرا کرتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں کہ اس میں ثانی کا لفظ زائد آ گیا ہے لیکن یہ درست نہیں۔ثَانِيَ اثْنَيْنِ کے معنی ہی یہ ہیں کہ جب اُس کے ساتھ صرف ایک شخص تھا یعنی دو شخصوں میں سے یہ ایک تھا۔اس میں کوئی لفظ زائد نہیں اور جو اس کے کوئی اور معنے کرتا ہے وہ عربی سے ناواقفی کی وجہ سے ایسا کرتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب کافروں نے ہمارے رسول کو نکال دیا تو اُس وقت جب صرف ایک ساتھی اس کے ساتھ تھا اُس وقت بھی ہم نے اس کی مدد کی۔یہ اشارہ غار ثور کے واقعہ کی طرف ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ جب بعض صحابہؓ حبشہ کو اور بعض مدینہ کو ہجرت کر گئے تو آنحضرت عمے کو بھی بعض صحابہ نے مشورہ دیا کہ آپ بھی ہجرت کریں مگر آپ نے ہمیشہ یہی جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آنے پر کروں گا۔حضرت ابو بکر نے بھی کئی بار ہجرت کی خواہش کی مگر اُن کو بھی آپ نے روک دیا۔معلوم ہوتا ہے کہ الہاماً آپ کو معلوم ہو چکا تھا کہ وہ آپ کے ساتھی ہوں گے۔ایک دن آپ حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور فرمایا کہ آج ہجرت کا حکم مجھے ہو گیا ہے اس پر حضرت ابو بکر نے کہا کہ يَا رَسُولَ اللَّهِ! مجھے بھی ساتھ چلنے کا موقع دیجیے اور میرے پاس ایک تیز رفتار اونٹنی ہے اسے ہدیہ قبول فرمائیے۔آپ نے فرمایا کہ ساتھ چلنے کی تو اجازت ہے مگر اونٹنی میں تحفہ نہیں لوں گا بلکہ اُس کی قیمت دوں گا۔رات کے وقت آنحضرت معہ ایسے وقت میں گھر سے نکلے جب ہر قوم کا ایک ایک آدمی تلواریں لئے مکان کے باہر اس نیت سے کھڑا تھا کہ آپ باہر نکلیں تو قتل کر دیا جائے۔آپ کو اُن کے اس منصو بہ کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو چکا تھا اس لئے آپ نے حضرت علی کو اپنے بستر پر لٹا دیا تا کفار مطمئن رہیں کہ آپ گھر میں سور ہے ہیں۔وہ دروازوں کی دراڑوں میں سے دیکھتے تھے اور اس انتظار میں تھے صلى الله کہ گھر سے باہر آئیں تو آپ کو قتل کریں۔مگر آ نحضرت ﷺ اندھیرے میں نکل کران کے سامنے باہر نکل گئے اور کفار سمجھے کہ یہ کوئی اور شخص ہے آپ اندر لیٹے ہوئے ہیں۔