سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 214

سيرة النبي علي 214 جلد 4 وو رسول کریم علی اور نصرت الہی حضرت مصلح موعود نے 13 دسمبر 1935ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا:۔رسول کریم اللہ نے اہل مدینہ کی پہلی بیعت میں شرط منظور کی تھی کہ مدینہ کے مسلمان اُسی وقت رسول کریم ﷺ کے دشمنوں سے جنگ کریں گے جب کہ وہ مدینہ پر حملہ آور ہوں۔مدینہ سے باہر وہ لڑائی کے ذمہ دار نہ ہوں گے 1۔اگر اسی طرح آج کوئی شرطی بیعت کرنا چاہتا ہے تو اسے بیعت سے پہلے واضح کر دینا چاہئے تا کہ میں چاہوں تو اُس کی بیعت قبول کروں اور چاہوں تو رد کر دوں۔اور اگر ایسے شخص کی بیعت منظور کروں تو بے شک میرا حق نہیں ہو گا کہ اُسے اُس حد سے آگے لے جاؤں جس حد تک ساتھ چلنے کا اُس کا وعدہ ہو۔لیکن جو شخص پہلے بے شرط بیعت کرتا اور بعد میں شرطیں باندھتا ہے، دین کے لئے قربانی کرنے سے ہچکچاتا اور بہانے بنا تا ہے وہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھ سے کیوں مطالبہ کیا جاتا ہے۔میں کہوں گا کہ تمہارے اپنے اقرار کی وجہ سے تم سے مطالبہ کیا جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ صحابہ کرام سے رسول کریم ﷺ کے ذریعہ دریافت کرتا ہے کہ میں تو تم سے مدد مانگنے کے لئے نہیں گیا تھا تم نے خود کہا تھا کہ ہم مہاجر اور انصار بنتے ہیں ورنہ جب تم نہیں تھے اُس وقت بھی خدا اپنے رسول کی مدد کرتا تھا تم نے کہا ہم مدد کرتے ہیں خدا تعالیٰ نے کہا کہ اچھا! ہم خدمت کا موقع تمہیں دیتے ہیں ہاں اگر تم خود مدد کرنا نہ چاہوتو ہم تمہیں مجبور نہیں کر سکتے۔یہ دیکھ لو کہ جب ہمارا رسول صرف ایک ساتھی کے ساتھ مکہ سے باہر نکلا تھا اُس وقت اُس کی کس نے مدد کی تھی ؟ یا د رکھنا چاہئے کہ بعض لوگ ثَانِيَ اثْنَيْنِ کا