سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 139
سيرة النبي علي 139 جلد 4 کی ہے کہ خدایا! میں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے دو پڑھی تھیں اس لئے مجھے دو کا ہی ثواب عطا ہو۔۔میں سمجھتا ہوں حضرت عثمان نے چونکہ مکہ میں شادی کی ہوئی تھی اس لئے اپنے آپ کو وہاں مسافر نہ سمجھتے تھے۔مگر عبد اللہ بن مسعودؓ کو گوارا نہ ہوا کہ جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں انہوں نے دو رکعت کا ثواب حاصل کیا تھا وہاں آپ کے بغیر چار کا ثواب حاصل کریں۔مگر آج مسلمان اپنے عقیدہ کے لحاظ سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ قیامت تک کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھوڑ کر ساری نیکیاں حضرت عیسی کے نام لکھ دی جائیں۔کیا کسی مومن کی غیرت اسے برداشت کر سکتی ہے؟“ تحقیق حق کا صحیح طریق مطبوعہ 30 ستمبر 1934ء) 1: السيرة النبوية لابن هشام الجزء الثاني صفحه 880 مطبوعہ دمشق 2005 ء 2: آل عمران: 145 صلى الله 3: بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم باب قول النبي لوكنت متخذا خليلا صفحه 616،615 حدیث نمبر 3668،3667 مطبوعہ ریاض 1999ء الطبعة الثانية 4: السيرة النبوية لابن هشام الجزء الثاني صفحه 1460 مطبوعہ دمشق 2005 ء 5 دیوان حسان بن ثابت صفحہ 103 مطبوعہ بیروت 1994ء الطبعة الثانية 6: آل عمران: 165 بخارى ابواب التقصير باب الصلوة بمنى صفحہ 175 حدیث نمبر 1084 مطبوعہ ریاض 1999 ء الطبعة الثانية