سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 140
سيرة النبي علي 140 جلد 4 رسول کریم علیہ کی صداقت کے تین دلائل حضرت مصلح موعود نے 8 اپریل 1934 ء کو فیصل آباد میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔قرآن کریم میں اَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِنْهُ 1 میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخاطبین کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ غور کرو! محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دعویٰ تمہارے سامنے ہے جسے سن کر قدرتی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اسے کیوں مانیں۔ہم اس سوال کو تسلیم کرتے ہیں مگر تم سوچو تو سہی کہ ان دلائل کی موجودگی میں کیا یہ رد کر نے کے قابل ہے۔اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کے تین دلائل بیان کئے گئے ہیں۔پہلی بات أَفَمَنْ كَانَ عَلَى بَيِّنَةِ ہے۔یعنی کیا وہ شخص بھی جو یہ دلائل رکھتا ہو اور یہ دلائل خدا کی طرف سے ہوں، انکار کے قابل ہو سکتا ہے؟ اس کی صداقت کی پہلی دلیل تو یہ ہے کہ اسے وہ دلائل حاصل ہیں جنہیں بندہ بنا ہی نہیں سکتا۔ایسے دلائل قرآن کریم میں بیسیوں ہیں مگر میں اس وقت صرف چند ایک کو لوں گا۔سورۃ یونس میں آتا ہے فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 2 اور یہ ایک ایسی بات ہے جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں ہے۔اگر کوئی شخص ڈھونگ رچائے تو وہ زیادہ سے زیادہ دو چار ماہ پہلے نمازوں کی پابندی کرے گا اور اپنے آپ کو نیک پاک ظاہر کرنے لگے گا۔وہ اُسی دن سے اس کا اہتمام شروع کرے گا جس دن سے کہ اس نے لوگوں کو لوٹنے اور ٹھگنے کا ارادہ کیا ہوگا پہلے نہیں کیونکہ پہلے تو اسے