سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 138

سيرة النبي مله 138 جلد 4۔شخص پاک نہیں ہوسکتا۔انبیاء ہمیشہ یا تو تکمیل کے لئے آتے ہیں جیسے موسوی سلسلہ کے نبی تھے یا پھر اُس وقت آتے ہیں جب ساری قوم خراب ہو جائے۔اس لئے یا تو تسلیم کرو کہ قرآن کریم نامکمل ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام اسے مکمل کرنے کے لئے آئیں گے یا یہ مانو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جب حضرت عیسی آئیں گے تو نَعُوذُ باللهِ غیر مزکی اور گندے ہوں گے اور یہ کتنا بڑا حملہ ہے۔پھر غور کرو حضرت عیسی آکر جن لوگوں کو پاک کریں گے وہ کس کے کھاتے میں لکھے جائیں گے۔حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کے ہدایت پانے کا ثواب منبع ہدایت تک پہنچتا ہے اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت عیسی کے ذریعہ جو لوگ ہدایت پائیں گے ان کا ثواب کس کو پہنچے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو پہنچ نہیں سکتا کیونکہ حضرت عیسی نے جو کچھ سیکھا اللہ تعالیٰ سے براہ راست سیکھا ہے۔پس کیا اس سے مسلمانوں کے دل خوش ہوتے ہیں کہ حضرت عیسی ضرور آ جائیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقیات بے شک قیامت تک کے لئے رک جائیں؟ ہم تو ایسے کھاتہ کو پھاڑ ڈالیں گے جس میں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہ ہو۔صحابہ کا تو یہ حال تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے علیحدہ ہو کر کسی نیکی کا ثواب بھی حاصل نہ کرنا چاہتے تھے۔بخاری اور احادیث کی دوسری کتب میں آتا ہے کہ حضرت عثمان نے ایک دفعہ جب کہ حج کے لئے مکہ میں گئے ہوئے تھے منی کے مقام پر نماز کی دورکعتوں کی بجائے چار رکعتیں پڑھ لیں حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں صرف دو پڑھا کرتے تھے۔اس پر صحابہ میں ایک ہیجان تو ضرور پیدا ہوا مگر انہوں نے خلیفہ کی اقتدا میں چار ہی پڑھ لیں۔حضرت عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے کہا میں تو دو رکعت ہی پڑھاؤں گا لیکن حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو رکعت ہی پڑھاتے تھے۔میں نے خلیفہ وقت کی پیروی کرتے ہوئے پڑھی تو چا رہی ہیں مگر دعا یہ