سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 125 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 125

سيرة النبي علي 125 جلد 4 رسول کریم ﷺ کو اپنی جان سے بڑھ کر عزیز سمجھنا دو حضرت مصلح موعود 6 اپریل 1934 ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔کئی دفعہ انسان سمجھتا ہے کہ فلاں چیز اس کی قوت کا موجب ہے حالانکہ وہ عدم مذ ہبر کا ثبوت ہوتا ہے اور اگر وہ غور کرے تو اسے معلوم ہو کہ وہی چیز اس کی کمزوری کا موجب بنتی ہے۔ایک دفعہ رسول کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور آکر کہنے لگا یا رسول اللہ ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ پیارے ہیں یہاں تک کہ میں آپ کو جان کی طرح عزیز سمجھتا ہوں۔آپ نے فرمایا یہ کوئی اعلیٰ ایمان نہیں جب تک کہ تم مجھے اپنی جان سے بڑھ کر پیارا نہ سمجھو۔اب جس چیز پر اس نے ناز کیا تھا اور سمجھا تھا کہ محبت کا بہت بلند مقام اسے حاصل ہو چکا ہے وہی چیز اس کا نقص ٹھہری۔اس نے الله خیال کیا تھا کہ رسول کریم ﷺ کو اپنی جان کی طرح عزیز سمجھنا ہی کافی ہے مگر صلى رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب تک تم اپنی جان سے بھی بڑھ کر مجھے عزیز نہ سمجھو ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔چونکہ وہ ایمان کے رستہ پر چل رہا تھا اس لئے اس نے سنتے ہی کہا يَارَسُولَ اللَّه! آپ مجھے اپنی جان سے بھی بڑھ کر عزیز ہو گئے ہیں اور اس طرح اُسی (الفضل 12 اپریل 1934ء ) 66 وقت اس کی اصلاح ہوگئی۔“