سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 124

سيرة النبي مله 124 جلد 4 مجلس بیٹھی ہو تو میں تم سے یہی سوال کروں گا اور تم اگر چاہو تو اپنے جواب سے ان کے جذبات میں تبدیلی کر سکتے ہو۔چنانچہ پھر مجلس کے موقع پر وہ آیا۔آپ نے اس سے وہی سوال کیا اور اس نے کہا ہاں آپ نے میرے ساتھ حسن سلوک کر دیا اب میں راضی ہوں اللہ تعالیٰ میری طرف سے اور میرے اہل وعیال کی طرف سے آپ کو جزائے خیر دے۔پھر آپ نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یہ شخص میرے پاس آیا، ناواقف تھا اور مجھ سے حسن سلوک کی امید رکھتا تھا۔اس کی امید کے مطابق اس کے ساتھ حسن سلوک نہ ہوا اور تم اسے مارنے کے لئے دوڑے لیکن میں نے روکا اور اسے خوش کیا۔اور میری تمہاری مثال ایسی ہی ہے کہ کسی شخص کی اونٹنی بھاگ گئی ، اس کے رشتہ دار اور دوست سینکڑوں کی تعداد میں جمع ہو گئے اور اس کے پیچھے بھاگنے لگے مگر وہ ان کے شور سے بدک کر اور بھی تیز بھاگنے لگی۔اس نے جب یہ حالت دیکھی تو کہا کہ بھائیو! میری حالت پر رحم کرو اور یہ احسان مجھ پر نہ کرو مجھے اور میری اونٹنی کو چھوڑ دو۔اور جب وہ لوگ ہٹ گئے اور شور کم ہوا تو اونٹنی بھی ذرا آہستہ ہوئی۔اس نے سبز گھاس اکھاڑ کر اس کے سامنے کیا اور اس طرح چپکا ر کر اسے پکڑ لیا۔اسی طرح یہ شخص میرے پاس آیا تو تم لوگوں نے یہ کوشش کی کہ یہ بدک کر بھاگ جائے۔اگر وہ چلا جاتا تو ضرور جہنم میں جا گرتا لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ کامیابی دی اور میں نے اسے بچا لیا۔آپ نے اُس وقت وہ محبت شفقت اور مہربانی ظاہر کی جو بنی نوع انسان کے لئے آپ کے دل میں تھی اور اس طرح بتا دیا کہ انسان کی اصلاح کس طرح ہوسکتی ہے۔“ ( الفضل 22 مارچ 1934 ء )