سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 126
سيرة النبي علي 126 جلد 4 رسول کریم علیہ کی مذہبی رواداری کی ایک مثال 7 اپریل 1934 ء کو حضرت مصلح موعود نے فیصل آباد میں بیت الذکر کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا:۔وو دوسرے لوگ مساجد بناتے ہیں مگر باہر بورڈ لگا دیتے ہیں کہ یہاں کوئی شیعہ، احمدی ، وہابی نہ آئے مگر وہ دھوکا خوردہ ہیں۔وہ خدا کے نام پر مسجد بناتے ہیں مگر پھر اس پر اپنا قبضہ کر لیتے ہیں۔تم بھی اگر ایسا ہی کرو گے تو خدا کے فضل کو حاصل نہیں کر سکو گے۔تمہارا بورڈ یہی ہونا چاہئے کہ یہ خدا کا گھر ہے جس کا جی چاہے یہاں آ کر اس کا نام لے سکتا ہے۔خواہ وہ کسی رنگ میں عبادت کرے ہم خوش ہوں گے۔رسول کریم ے کے پاس عیسائیوں کا ایک وفد آیا اور کچھ مذہبی مباحثہ کیا۔اتنے میں ان کی عبادت کا وقت آ گیا۔عیسائیوں میں بعض مشرک ہوتے ہیں اور بعض موحد بھی۔گو وہ بعض مسلمانوں کی طرح حضرت مسیح کی تعظیم ارباب کی حد تک کرتے ہیں مگر پھر بھی خدا کو ایک مانتے ہیں۔اس وفد کے عیسائی بت پرست تھے اور انہوں نے سونے کی صلیبیں اپنے پاس رکھی ہوئی تھیں جنہیں وہ پوجتے تھے۔انہوں نے رسول کریم ﷺ سے کہا کہ ہم باہر جا کر اپنی عبادت کر آئیں مگر آپ نے فرمایا کہ یہ مسجد عبادت کے لئے ہی ہے آپ بے شک یہاں اپنی طرز پر عبادت کریں۔چنانچہ انہوں نے وہیں اپنی صلیبیں رکھیں اور اپنے طریق پر عبادت کی 1۔“ ( الفضل 15 اپریل 1934ء) 1: السيرة الحلبية الجزء الثالث صفحہ 385 386 مطبوعہ بیروت لبنان 2012 ء