سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 123
سيرة النبي علي 123 جلد 4 رسول کریم ﷺ کی ہمدردی خلق کا ایک اہم واقعہ حضرت مصلح موعود 16 مارچ 1934ء کے خطبہ جمعہ میں آنحضرت ع ہمدردی خلق اور صفت احسان کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔' آپ ایک دفعہ مجلس میں تشریف فرما تھے کہ ایک اعرابی آیا اور آکر کہنے لگا مجھے کچھ دو۔آپ نے اسے کوئی چیز دی۔راوی کا خیال ہے کہ وہ چیز اونٹنی وغیرہ تھی۔پھر یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آیا اس کی تسلی ہوگئی ہے یا نہیں آپ نے اس سے پوچھا کہ کیا میں نے تمہارے ساتھ حسن سلوک کر دیا ہے یعنی تمہاری ضرورت پوری ہو گئی ؟ اس نے جواب دیا کہ حسن سلوک اور ضرورت کا پورا ہونا تو دور کی بات ہے آپ نے تو میرے ساتھ معمولی رواداری کا برتاؤ بھی نہیں کیا۔اس پر صحابہ کو غصہ آیا اور وہ اسے مارنے لگے کہ اس نے کیوں رسول کریم ﷺ کی ہتک کی ہے۔مگر آپ نے ان کو صلى الله روک دیا اور اس اعرابی سے کہا کہ میرے پیچھے آؤ۔آپ اسے الگ لے گئے اور کہا کہ تم سائل کی حیثیت سے میرے پاس آئے تھے اور میں نے تمہارے ساتھ سلوک کر دیا اور پوچھا کہ میں نے تمہارے ساتھ حسن سلوک کر دیا ہے؟ مگر تم نے جواب دیا که معمولی رواداری بھی نہیں کی۔پھر آپ نے اسے کچھ اور دیا جو راوی کو یاد نہیں رہا کیا تھا اور پھر پوچھا کیا اب تمہارے ساتھ حسن سلوک کر دیا ہے؟ اس نے کہا ہاں اب واقعی کر دیا ہے۔میری طرف سے اور میرے اہل وعیال کی طرف سے اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔آپ نے فرمایا تمہارے پہلے جواب سے سننے والوں کو غصہ آیا تھا جس سے ان کے دلوں میں تمہارے متعلق نفرت رہے گی اس لئے بہتر ہے کہ جب پھر