سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 529

سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 116

سيرة النبي عمال 116 جلد 4 میں جہالت پیدا ہو جائے اور یہ نور کے محتاج ہوں تو ان میں سے ہی ان کے لئے ایک رسول بھیجیو جو ان کو تیری آیات اور نشانات سنائے ، تیری شریعت سکھائے، احکامِ شریعت کی حکمت بتائے اور انہیں پاک کرے۔گویا یہی چار باتیں ہیں جو مانگی گئی تھیں جو ان چار صفات یعنی ملکیت، قدوسیت، عزیزیت اور حکیمیت کا اظہار ہے اور یہ چار کام تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آ کر کئے۔پہلا کام يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ ہے۔اس کے کیا معنی ہیں؟ جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ صفت ملکیت کے اظہار کے لئے ہے۔کوئی بادشاہ ہونا چاہئے اور اس میں کہ بادشاہ ہے بہت بڑا فرق ہے۔اگر کسی ملک کا کوئی باقاعدہ نظام نہ ہو، آئین نہ ہو ، تنازعات کے فیصلہ کے لئے عدالتیں نہ ہوں ، فوج نہ ہو، پولیس نہ ہو اور ایک شخص دلائل دیتا جائے کہ بادشاہ ضرور ہونا ا چاہئے تو سننے والا یہی کہے گا کہ جب کوئی نظر تو آتا نہیں ، نہ ملک کی بہبودی اور بہتری کے لئے کوئی کوشش ہو رہی ہے، نہ بدمعاشوں کے لئے پولیس یا فوج ہے تو صرف چاہئے سے اس کے وجود کو کس طرح تسلیم کر لیا جائے۔عقلی دلائل سکھانے کے لئے کسی نبی کے آنے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی کیونکہ یہ تو ہر شخص جان سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کے متعلق بھی عقلی دلائل ہر انسان کی فطرت میں پائے جاتے ہیں ان کے لئے بھی کسی نبی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ایک فلاسفر کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے کسی جاہل سے پوچھا خدا کی ہستی کا ثبوت کیا ہے؟ اس نے کہا ہم جنگل میں مینگنیاں پڑی دیکھتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ کوئی بکری اِدھر سے گزری ہے پھر اتنی بڑی کائنات کو دیکھنے سے یہ کیوں نہیں سمجھ سکتے کہ کوئی خدا ہے۔تو خدا تعالیٰ کے متعلق ہر انسان کی فطرت بول پڑتی ہے اور اس قسم کے دلائل کے لئے کسی نبی کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔یہاں اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ ایسے دلائل تو مکہ والوں کو بھی معلوم تھے۔ان میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے ایسے لوگ تھے جو شرک کے خلاف تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ایک چچا ہمیشہ شرک کے خلاف تعلیم دیا کرتے تھے۔۔