سیرت النبی ﷺ (جلد چہارم) — Page 117
سيرة النبي علي 117 جلد 4 ان سے سوال کیا گیا آپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟ تو جواب دیا کہ میں نے شرک کے خلاف اتنی کوشش کی ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی نبی آنا ہوتا تو وہ میں ہوتا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قبل بھی ایسے لوگ تھے جو شرک کے خلاف تھے اور وہ بغیر کسی دلیل کے اس بات کے مدعی تھے کہ خدا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیوں مبعوث کیا؟ یہ صاف بات ہے کہ انسان کی عقلی ایمان پر تسلی نہیں ہو سکتی۔دلائل صرف ’ چاہئے‘ تک پہنچاتے ہیں” ہے تک نہیں۔مگر نبی خدا کی صفات کو ظاہر کر کے بتا دیتے ہیں کہ خدا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر دنیا کو یہ نہیں بتایا کہ خدا چاہئے بلکہ یہ دکھا دیا کہ خدا ہے اور آپ نے اپنی زندگی کے ہر عمل سے دکھا دیا کہ ایک زندہ خدا موجود ہے۔تاریخ اسلام میں اس کی کئی مثالیں ملتی ہیں۔میں ان سب کو بیان نہیں کر سکتا اس وقت صرف ایک بیان کرتا ہوں جسے بچے بھی جانتے ہیں۔یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے گئے تو غار ثور میں جا کر ٹھہرے۔قریش نے تلاش شروع کی اور کھوجی کی مدد سے عین غار کے منہ تک پہنچ گئے۔کھوجی نے وہاں پہنچ کر پورے وثوق سے کہا کہ یہاں تک آئے ہیں۔اب یہ تو ہو سکتا ہے کہ یہاں سے آسمان پر چڑھ گئے ہوں مگر اس سے آگے ہر گز نہیں گئے۔مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات پیدا کر دئیے اور مکڑی نے غار کے منہ پر جالا تن دیا اسے دیکھ کر ان میں سے ایک نے کہا میں تو ہمیشہ یہاں آتا ہوں۔یہ غار تو ویسی کی ویسی ہی ہے اور ہمیشہ ایسی ہی حالت میں ہوتی ہے۔کھوجیوں پر اہلِ عرب بہت اعتماد رکھتے تھے۔کھوجی پورے یقین سے کہتا ہے کہ اس جگہ سے آگے نہیں گئے۔وہ لوگ غار کے منہ پر کھڑے ہیں اُس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں خیال اور خوف پیدا ہوتا ہے اور بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ ان کا یہ خوف اپنی جان کے لئے نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھا۔آپ کچھ گھبراہٹ کا اظہار